مشیروں ،معاون خصوصی کیساتھ کس طرح حساس امور شیئر کریں ؟ پارلیمانی نظام کے علاوہ کسی اور سسٹم کو نہیں مانتے ،سینیٹ اپوزیشن

    مشیروں ،معاون خصوصی کیساتھ کس طرح حساس امور شیئر کریں ؟ پارلیمانی نظام ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں پیپلز پارٹی نے معاون خصوصی اور مشیروں کی آئینی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھا دیئے ،سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ جتنی بھی اہم وزارتیں ہیں ،ساری کی ساری غیر منتخب لوگوں کو دے دی گئیں ہیں ،جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں صدارتی نظام کی طرف تو نہیں جا رہے،،اس حکومت میں 5 مشیر اور 17 معاون خصوصی ہیں، مشیروں اور معاون خصوصی کے ساتھ کس طرح حساس امور شیئر کریں گے جب کہ انہوں نے حلف بھی نہیں اٹھایا ہوتا ،وہ کابینہ کے ارکان نہیں ہیں ،ان سے کیسے دفاع کا بجٹ شیئر کریں گے ،پارلیمنٹ دفاع کے بجٹ پر بحث نہیں کر سکتی، سو کالڈ ٹیکنوکریٹک سیٹ اپ لایا جا رہا ہے،ہم پارلیمانی نظام کے علاوہ کسی اور نظام کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔دوسری طرف وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے، ادویات کی قیمتوں میں کمی کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، اسلام آباد میں ادویات بنانے والوں اور ادویات فروخت کرنے والوں پر کڑی نگاہ رکھیں گے۔جمعہ کو ایوان بالا میں سینیٹر میاں عتیق شیخ کی تحریک التواءپر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ادویات سے متعلق آگاہی کے ساتھ ساتھ سخت قانونی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان اینٹی بائیوٹک 2017ءپر عمل کیا جا رہا ہے۔ صوبوں کے تعاون سے ادویات کے معاملہ کی سرویلنس کر کے اس برائی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر سسی پلیجو نے سوال کیا کہ ٹھٹھہ کے قریب ایڈیشنل ٹول ٹیکس کیوں لیا جا رہا ہے ،جس پر وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ وہاں کوئی اضافی ٹول پلازہ نہیں ،ٹوٹل 75ٹول پلازے ہیں ،مراد سعید کے جواب پر اپوزیشن ارکان مطمئن نہ ہوئے جس پر مراد سعید نے کہا کہ پہلے لوٹ کھسوٹ تھی،جو ٹول کلیکشن جیب میں جا رہا تھا وہ پکڑ لیا گیا ہے ،اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابہ کیا۔سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ ملک میں کتے اور سانپ کے کاٹنے سے بچاﺅ کی ویکسین کی کوئی قلت نہیں ، پبلک ہیلتھ ریسرچ کونسل کی رپورٹ کے مطابق سالانہ سانپ کے کاٹنے کے 20 ہزار واقعات درج کیئے جاتے ہیں، نئی مردم شماری کے مطابق ملک میں تپ دق کے مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 80 ہزار تک بڑھ گئی ہے،ایم ون پر قائم شدہ ٹول پلازوں سے گزشتہ ایک سال کے دوران دو ارب روپے کی رقم حاصل ہوئی،ان خیالات کا اظہار جمعہ کو سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی اور وزیر مواصلات مراد سعید نے ارکان کے سوالوں کے جواب میں کیا ۔

سینیٹ اپوزیشن

مزید :

صفحہ آخر -