پیراگون سوسائٹی کیس کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری،شاہد خاقان عباسی،مفتاح اسماعیل سمیت 7افراد کے نام ای سی ایل میں شامل بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہیں،چیئرمین نیب

    پیراگون سوسائٹی کیس کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری،شاہد خاقان ...

  

لاہور،اسلام آباد(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے ریجنل بورڈ کے اجلاس میں پیراگون سوسائٹی کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دیدی گئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، انکے بھائی خواجہ سلمان رفیق اور ندیم ضیاء مرکزی ملزمان نامزد ہیں، ریفرنس کی حتمی منظوری چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے حاصل کی جائیگی جس کے بعد اسے احتساب عدالت میں دائر کر دیا جائے گا۔ گزشتہ روز نیب لاہور بیورو آفس میں ریجنل بورڈ کا اجلاسڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تمام ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہم کیسز میں ہونیوالی پیشرفت پر ڈی نیب لاہور کو جامع بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پیراگون سوسائٹی کیس میں جاری تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ریفرنس دائر کرنیکی منظوری دی گئی۔ ریفرنس میں خواجہ سعد رفیق،خواجہ سلمان رفیق اور ندیم ضیا بطور مرکزی ملزمان نامزد ہیں اور تینوں ملزمان پر عوام سے دھوکہ دہی اور مالی بدعنوانی کا مرتکب ہونی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ نیب ترجمان کے مطابق 2003ء میں قیصر امین بٹ اور ندیم ضیا نے ایئر ایونیو نامی کمپنی تشکیل دی جسے بعد ازاں پیراگون سٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام منتقل کر دیا گیا،قیصر امین بٹ اور ملزم ندیم ضیا بطور ڈائریکٹرز پیراگون سٹی نامی سکیم کو آپریٹ کرتے رہے، ملزمان کے پاس 1000کنال کے قریب زمین موجود تھی جبکہ انہوں نے 7000 کنال زمین کے لے آؤٹ پلان کی منظوری کیلئے ٹاؤن پلاننگ سے استدعا کی، پیراگون سٹی نامی ہاؤسنگ سکیم تاحال ایل ڈی اے سے منظور شدہ نہیں۔نیب ترجمان کے مطابق ملزمان خواجہ سعد رفیق و سلمان رفیق نے 50کنال زمین کے عوض 2، 2کنال کے 20 ڈویلپڈ پلاٹ پیراگون سٹی سے حاصل کئے،دونوں کے نام پیراگون سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی پراکسی کمپنی کے اکاؤنٹ سے 5کروڑ 80لاکھ اور 3کروڑ 90لاکھ کی رقوم غیرقانونی طور پر منتقل ہوئیں،ملزمان نے 2کروڑ روپے پیراگون سٹی کے آفیشل اکاؤنٹ سے وصول کئے جسکی خاطر خواہ وضاحت نہ دی جاسکی۔نیب لاہور کی جانب سے قیصر امین بٹ کی نومبر 2018ء میں گرفتاری عمل میں لائی گئی جو بعد ازاں ملزمان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بنے، نیب لاہور نے ملزمان خواجہ سعد رفیق و سلمان رفیق کو 11دسمبر 2018ء کو گرفتار کیا جو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، ملزمان کیخلاف 54کروڑ سے زائد مالیت پر مشتمل دھوکہ دہی اور مالی بدعنوانی کی 68شکایات نیب کو موصول ہوچکی ہیں جبکہ ملزم ندیم ضیا تاحال مفرور ہے۔ترجمان  نیب لاہور کے مطابق پیراگون سٹی کیس میں ریفرنس کی حتمی منظوری چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال سے حاصل کی جائیگی۔جس کے بعد ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا جائے گا۔دوسری طرف وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل سمیت 7 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے قومی احتساب بیورو (نیب) نے 7 افراد کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔وزارت داخلہ کی جانب سے نیب کو باقاعدہ ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں بھیجے گئے تمام نام ای سی ایل میں ڈالنے سے آگاہ کیا گیا ہے۔وزارت داخلہ کے خط میں بتایا گیا ہے کہ احتساب بیورو کی درخواست پر 7 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں جن میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما شاہد خاقان عباسی، (ن) لیگی رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے نام بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں قومی احتساب بیورو(نیب)نے جعلی اکاونٹس میں سابق ایڈمنسٹریٹر کے ڈی اے حسین سید کیخلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔نیب کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس میں سابق ایڈمنسٹریٹر کے ڈی اے حسین سید کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ریفرنس میں سابق میٹروپولیٹن کمشنر کے ڈی اے متانت علی خان اور سابق ڈائریکٹر کے ڈی اے نجم کے نام بھی شامل ہیں۔جعلی اکاونٹس کیس میں نیب کی جانب سے یہ چوتھا ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔

نیب ریفرنسز

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بلا امتیاز احتساب اور ہر قسم کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب میگا کرپشن وائٹ کالر کرائمز کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے قانون کے مطابق ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی کی موثر قومی حکمت عملی کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی اینڈ گیلپ کے سروے رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو 2018ء کے مقابلے میں 2019 میں موصول ہونے والے شکایات، انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کی تعداد دو گنا ہے‘گزشتہ 18 ماہ کے اعداد و شمار کے موازنہ سے نیب کی شاندار کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور لیگل قونصل پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ نیب نے نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 50 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پلڈاٹ، مشال اور عالمی اقتصادی فورم نے نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوششوں کو سراہا ہے۔

چیئر مین نیب

مزید :

صفحہ اول -