جمہوریت میں عوام کی مرضی چلتی ہے ،تھرڈامپائر کی نہیں ،بلاول

      جمہوریت میں عوام کی مرضی چلتی ہے ،تھرڈامپائر کی نہیں ،بلاول

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ جمہوریت میں عوام کی مرضی چلتی ہے تھرڈ امپائر کی نہیں ،کسی صورت صدارتی نظام قبول نہیں کیا جائے گا ،صدارتی نظام جیسی سازشوں کو تمام سیاسی قوتیں متحد ہوکر ناکام بنائیں گی ،حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں مگر ان کی ملک چلانے، معیشت چلانے اور پارلیمان چلانے میں دلچسپی نہیں،سردار اختر مینگل میرے ساتھ انسانی حقوق کمیٹی میں ممبر ہیں، ملکر کام کرینگے ،احتساب کے نئے قانون پر حکومت کے ساتھ بات کرنے کےلئے تیار ہیں۔ جمعہ کو یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزر داری اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں کی ملاقات ہوئی جس میں مختلف امورزیر غور آئے ۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہم بار بار ملتے رہیں گے اور مسائل کا حل نکالتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک پیپلز پارٹی نے شروع کیا اور ن لیگ نے اسے آگے بڑھایا، خان صاحب اور حکومت سی پیک کو متنازع نہ بنائیں۔انہوںنے کہاکہ سی پیک پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ،حکومت کو بھی اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنے دینگے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ہاں اسلامی پارلیمانی جمہوری نظام ہی چل سکتا ہے کبونکہ عوام کو پاکستان کا پارلیمانی نظام پسند ہے۔ انہوںنے کہاکہ نیب کالا قانون ہے ، یہ مشرف کا بنایا ہوا ادارہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی تمام افراد کی مساوی بنیادوں پر احتساب چاہتی ہے، چاہے سیاستدان ہوں، جج ہوں یا جرنیل ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت شائد پورا نیا سسٹم لانا ناممکن ہو لیکن جتنا جمہوریت میں اس کو لاسکتے ہیں اس کی بھرپور کوشش کرینگے ہم اس حوالے سے حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں مگر ان کی ملک چلانے، معیشت چلانے اور پارلیمان چلانے میں دلچسپی نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بلوچستان کا اتنا حق میڈیا پر ہے جتنا دیگر صوبوں کے رہنماو¿ں کا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سردار اختر مینگل کے نکتہ نظر سے مکمل اتفاق کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی چل رہی ہے، عمران ایسی غلطی نہ کریں۔مسلم لیگ (ن)کے مشاہد اللہ خان نے کہاکہ بلاول بھٹو نے آپ سے بات کرلی ہے، انتہائی اہم مسائل پر کانفرنس میں بات ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بلاول بھٹو نے مختلف مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بلاول بھٹو کے خیالات بہت اچھے ہیں، ملک اور ملک کے عوام کےلئے خوش آئند چیز ہے۔سینیٹرعثمان کاکڑ نے کہاکہ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور عاصمہ جہانگیر فاﺅنڈیشن کا بہت مشکور ہوں۔انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور دیگر اہم مسائل پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بلاول بھٹو اور سب کا بہت مشکور ہوں۔ امجد شاہ نے کہا کہ پارلیمان قانون سازی سے متعلق سستی کر جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بلاول بھٹو اور دیگر سیاستدانوں سے مختلف مسائل پر بات ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت ملک کو چلایا جائے۔انہوںنے کہاکہ میں مطمئن ہوں ہمارے رہنما انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔

بلاول

مزید :

صفحہ اول -