قرآن عظیم الشان ہی اعمال افعال اور عقیدہ کی اصلاح کیلئے عظیم آفاقی کتاب ہے ، مولاناطیب

قرآن عظیم الشان ہی اعمال افعال اور عقیدہ کی اصلاح کیلئے عظیم آفاقی کتاب ہے ، ...

  

تورڈھیر(نمائندہ خصوصی)اشاعت التوحیدوالسنہ پاکستان کے مرکزی امیرشیخ القرآن مولانامحمدطیب نے تحصیل لاہورپریس کلب کے نمائندہ وفدسے ملاقات میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاہے کہ آج انسانی معاشرہ میں جوصحیح یاغلط اعمال وافعال پائے جاتے ہیں جونیکیاں یابرائیاںہورہی ہیں جتنے آفات سے آج کے انسانوںکاسامناہے ایسے ہی حالات و اعمال جناب محمدرسول اللہ سے قبل پورے عرب میں ہوتے تھے ساراعرب ایک دوسرے کے جانی دشمن اورخون کے پیاسے ہوتے تھے شراب پانی کی طرح پیتے ناچ گانوںکے محفلوں سے دل بہلاتے بیٹیوںکوزندہ درگورکرتے معمولی معمولی باتوںپر صدیوںتک انکے مابین دشمنیاں چلتی حیوانوں سے بھی بدترسمجھے جاتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے جناب نبی کریم کوقرآن مجیدجیسے عظیم آفاقی کتاب سے سرفرازکرکے جب مبعوث فرمایااور پیغمبرخدانے عرب کی زندگیاں اسی قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق جب بنانے کی محنت شروع کی توانکی زندگیوں میں ایساانقلاب آیا کہ وہی عرب ایک قالب دوجان کی مانندایک دوسرے کےساتھ بھائیوں کی طرح رہنے لگے اورانہیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے عظیم خطاب کیساتھ قیامت تک یاد کیا جانے لگاوہ گزشتہ روز مرکزی جامعہ دارلعلوم تعلیم مولانامحمدطیب کاکہنا تھاکہ انسانی معاشرہ میں حقیقی انقلاب لانے،زندگیوںکو پلٹانے، معاشرہ کے بدترین انسانوںکو راہ راست پرلاکر انہیں اپنے مقرب بندے بنانے کیلئے اگرقرآن پاک کی تعلیمات سے بڑھ کرکوئی اورکتاب ہوتی تو اللہ تعالیٰ سرورکائنات حضوراقدس کو دے دیتا قرآن مجیدہی اعمال، افعال اور عقیدہ کی اصلاح کیلئے عظیم آفاقی کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کسی گاو¿ں کے اصلاح کیلئے الگ،کسی ملک کے اصلاح کیلئے الگ، گھرکے اصلاح کیلئے الگ اورکسی فردواحدکے اصلاح کیلئے الگ اصول ذکرفرمائے ہیں اورہمارانظریہ ہی ہے کہ قرآن کریم سے ہی تمام معاشروں کا اصلاح ممکن ہے بشرطیکہ کہ اسے سمجھ کر اس پر عمل کیاجائے قرآن اصلاح کی نیت سے پڑھنے پڑھانے،سمجھنے اورسمجھانے کیلئے اسکی تعلیمات اوراحکامات پرمن وعن عمل کرنے اورعمل کروانے کیلئے نازل ہوا ہے اس پرصرف ووٹ مانگنے کیلئے نازل نہیںہوا اشاعت التوحیدوالسنہ پاکستان کے مرکزی امیرشیخ القرآن کامزیدکہناتھاکہ کسی بھی سیاسی یامذہبی جماعت کیساتھ ہماری کوئی وابستگی نہیں ، کسی سے کوئی بغض نہیں کسی سے کوئی زد اورمقابلہ نہیںمقابلہ توتب ہوتاکہ ہم بھی انکی طرح اقتدارچاہتے اوریہ توہماری کبھی خواہش ہی نہیں ہوئی البتہ ہمدردیاں سب کیساتھ ہیں کہ سب الحمدللہ مسلمان اورہم وطن ہیں اورہم سب کے خیرخواہ ہیں سب کی آخرت کی بھلائی چاہتے ہیں اورجواپنی جماعتوںکودینی جماعتیں کہتے ہیںانہیں زرہ اپنی کارکردگی پر بھی نظردوڑانی چاہیے کہ وہ اقتدارمیںبھی رہ کر دین اسلام کیلئے کونسی خدمت اورکونساکارنامہ انجام دیا ہے اللہ کے واسطے دنیاکی خاطردین کی بدنامی نہ کی جائے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ختم نبوت کامسئلہ اُٹھایاہواہے تو ختم نبوت کامسئلہ اُس وقت کیوں نہ اُٹھالیتے جب اقتدارمیں بھی تھے اوراگرپھراقتدارملے تویہ مسئلہ پھربھول جائے تو خدارا.. دین کی بدنامی کا مو¿جب نہ بنئے اس سے عوام کے اندر بددلی پیداہوتی ہے دین کودنیاکیلئے استعمال نہ کیا جائے دین کاکوئی کام آخرت کیلئے اوردنیاکاکام دنیاداری کیلئے ہی کیاجائے مولانامحمدطیب کاکہناتھاکہ سیاست عربی کالفظ ہے جسکامعنی ”قوم کی نگہبانی“ہے اورقوم کی نگہبانی انبیاءکرام ؑنے کی ہے جن سے یہ طریقہ ثابت نہیں کہ موجودہ مروجہ الیکشن کی طرح کوئی طریقہ کار ہوتاتھا اورلوگوں سے ووٹ مانگتے تھے نا کبھی حضرت موسیٰ علیہم السلام نے فرعون سے کہاتھاکہ اقتدارمجھے سونپ دے ناحضرت ابراہیم علیہم السلام نے نمرود سے کبھی اقتدارکامطالبہ کیا تھاناکبھی ایساہواکہ ابو بکرصدیق ؓ اورعمرفاروق ؓ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوئے کہ جنکے ووٹ زیادہ ہونگے وہ ہمارے خلیفہ ہونگے البتہ آج کی سیاست کامعنی اورمقصد ’جھوٹ اورفریب‘ہی سمجھ میں آتی ہے کہ قیادت واقتدارکے حصول کیلئے عوام کو کسی نا کسی طریقے سے ورغلایاجاتاہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -