خیبرپخٹونخوا اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن لیڈر کا میٹنگ نہ کرنے پر سپیکر سے اعتراض

خیبرپخٹونخوا اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن لیڈر کا میٹنگ نہ کرنے پر سپیکر سے ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر مشتاق احمد غنی کی صدارت میں شروع ہوگا اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے نکتہ اعتراض پر موقف اختیار کیا کہ منگل کے روز اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا آپ نے میٹنگ کی بات کی مگر ہمارے ساتھ کوئی میٹنگ نہیں کی انھوں نے کہا کہ میٹنگ بلائی گئی تھی اور پھر حکومت کی جانب سے کوئی نہیں آیا،سپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ کمیٹی کے چیئرمین شوکت یوسفزئی نے رولز 168 کے تحت تحریری طور پر دیا ھا کہ اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے چونگہ اپوزیشن نے کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا تھا اس لئے اسے ملتوی کردیا گیا،اپوزیشن لیڈر اکرم درانی نے استسفار کرتے ہوئے کہا کہ جب سپیکر نے استعفے منظور نہیں کئے تک وہ کمیٹیوں کے ممبرز ہیں اس لئے یہ بہانہ درست نہیں سینئر وزیر عاطف خان نے کہا کہ اپوزیشن کا موقف درست ہے اگر استعفے منظور نہیں ہوئے ہیں تو وہ تب تک ممبر ز ہیں اور انہیں اجلاس کے حوالے سے اعتماد میں لینا چاہئے تھا اپوزیشن لیڈر نے سینئر وزیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پہلے اس مسئلے کا حل کیا جائے پھر ایجنڈے کے مطابق آگے بڑھا جائے سپیکر نے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کے آنے تک معاملے کو موخر کرنے پر زور دیا اور ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہا اپوزیشن نے یک زبان ہوکر سپیکر کو ایسا کرنے سے روکا اور اپوزیشن نے ایجنڈے پر اپنے بزنس کو آگے نہیں بڑھایا اپوزیشن کے عنایت اللہ خان نے رولز168 کا حوالہ دے کر سپیکر کے موقف کو غلط قرار دیا اپوزیشن نے اس حوالے سے وزیر قانون سلطان محمد کی وضاحتوں کو بھی مسترد کردیا اور ہوٹنگ کرکے انہیں بٹھادیا اور بولنے نہیں دیا اپوزیشن کے خوشدل خان نے رولز 195 کا حوالہ دے کر کہا کہ حکومتی ارکان کے نہ آنے کے باوجود اپوزیشن ارکان نے جاکر سائیٹ وزٹ کیا جہاں بلین ٹری کا کچھ بھی موجود نہیں تھا انہوں نے سپیکر سے رولنگ کا بھی تقاضا کیا سپیکر کے بار بار اصرار پر اپوزیشن نے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا انتظار نہ کرنے اور سپیکر سے رولنگ دینے پر سپیکر نے شور شرابے کے دوران ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور جب اپوزیشن ارکان وقار احمد خان اور صلاح الدین نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہیں کئے اپوزیشن کے شور شرابے میں صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2019ء فوری طور پر ایوان میں زیر غور لانے اور منظور کرنے کی تحاریک پیش کیں اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے بل سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی تجویز دی وزیر قانون وپارلیمانی امور سلطان محمد نے کہا کہ اس اسٹیج پر اسے کمیٹی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا البتہ شق وار تین روز تک اس پر بحث کیلئے تیار ہیں اے این پی کے سردار حسین بابک نے رولز 140 کا حوالہ دیا اور نئے ترمیمی بل میں لوکل گورنمنٹ سے ڈسٹرکٹ کو ختم کرنے کی مخالفت کی انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈر کو شامل کرکے مناسب قانون سازی ہوسکے گی،اپوزیشن کے خوشدل خان نے کہا کہ اگر وزراء سے مشورہ ہوسکتا تھا تو اپوزین لیڈر اور پارلیمانی لیڈرز سے بھی مشاورت کی جاتی انہوں نے رولز 85 کے تحت بل سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر زور دیا سپیکر نے کہا کہ انہوں نے حزب اقتدار سے استسفار کیا وہ سلیکٹ کمیٹی کیخلاف ہیں سپیکر نے قانون سازی جاری رکھی اپوزیشن ارکان عنایت اللہ خان،حاجی منور خان،صاحبزادہ ثناء اللہ،نگہت اورکزئی،محمود احمد خان اور حکومتی ارکان ظاہر شاہ طورو اور محمدی رف نے بل میں ترامیم تجویز کیں ایوان نے بعض ترامیم سمیت بل کی منظوری دے دی سپیکر نے اجلاس 29 اپریل پیر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔

مزید :

صفحہ اول -