پاکستان میں جگہ جگہ یونانی دوا خانے کیوں کھلے ہوئے ہیں؟ کہانی سامنے آگئیں

پاکستان میں جگہ جگہ یونانی دوا خانے کیوں کھلے ہوئے ہیں؟ کہانی سامنے آگئیں
پاکستان میں جگہ جگہ یونانی دوا خانے کیوں کھلے ہوئے ہیں؟ کہانی سامنے آگئیں

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان کے مختلف شہروں میں دیواروں پر مختلف حکماء حضرات اور دوا خانوں کے اشتہارات چھپے ہوتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد یونانی دوا خانوں کی بھی نقش ہوتی ہے لیکن دراصل یہ دواخانے کہاں سے آئے، یونان کے دورے پر موجود معروف شاعر منصور آفاق نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ۔ 

روزنامہ جنگ میں لکھے اپنے کالم میں منصور آفاق نے بتایا کہ ’یونان کا لفظ میں نے پہلی بار میانوالی میں اپنے گھر کے قریب ایک گلی میں پڑھا تھا- وہاں ایک دروازے پر بورڈ لگا ہوا ہوتا تھا ’یونانی دواخانہ‘- وہ حکیم سکندر علی یونانی کا مطب تھا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو پتہ چلا کہ یونان ایک ملک ہے جہاں کی ادویات، حکیم اور طریقہ علاج برصغیر میں بہت کامیاب ہے، اِس لئے لوگ دوائیوں اور دواخانوں کے نام کے ساتھ ’یونانی‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں- حکیم سکندر علی یونانی کے متعلق بھی محلے کے بڑے بوڑھوں کو یقین تھا کہ موصوف یونان سے پڑھ کے آئے ہیں، اِسی لئے اپنے نام کے ساتھ یونانی لگاتے ہیں۔ میں نے ایک دن اُن سے یونان کا جعرافیہ بھی پوچھا تھا۔ مجھے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے اُنہوں نے بڑی معصومیت سے کہا ’’میں اِس مضمون میں ہمیشہ فیل ہوتا رہا ہوں‘‘۔

ہمارے شہر کی سرکاری دیواروں پر بھی ایک اشتہار مجھے اب تک یاد ہے بہت موٹے حروف میں لکھا ہوتا تھا ’مرگی کا یونانی علاج‘۔ ’درد کا شافی یونانی علاج‘ جیسے اشتہار تو جگہ جگہ نظر آتے تھے، پھر اخباروں میں ایسے مطالبات بھی نظر آنا شروع ہو گئے۔ ’طبِ یونانی کے بجٹ میں فوراً اضافہ کیا جائے‘، حکومت نے بھی شاید لفظ یونان سے ڈر کر سرکاری ہسپتالوں میں حکیموں کو ملازمتیں دینا شروع کردیں۔ حکومت پہ کیا موقوف، یونان کا تو نام آتے ہی بڑے بڑوں کا پتا پانی ہو جاتا ہے- سو ہم اور ہمارے آبا واجداد صدیوں سے یونان اور یونانیوں سے متاثر چلے آرہے ہیں-حکمائے طب کہتے ہیں تمام یونانی دوا سازی کے ادارے برصغیر میں سکندراعظم کے زمانے سے چلے آرہے ہیں- طبِ یونانی کے کچھ ماہرین سکندراعظم  کے ساتھ آئے تھے اور واپس نہیں گئے، بے شک حکیم سکندر علی یونانی کے خدوخال بھی یونانیوں سے ملتے جلتے تھے۔ یونانی النسل حکیم پاکستان میں خاصے ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میں جب ایتھنز کے لئے جہاز پر سوار ہوا تو خیال آیا کہ یہ جو مجھے تبخیر معدہ کا مرض لاحق ہے، اسکا علاج وہاں جاکر کسی اصلی یونانی حکیم سے کرائوں گا- پاکستان میں یونانی حکیم بھی بہت اچھے ہیں مگر اصلی تو اصلی ہی ہوتا ہےنا- 

ایتھنز میں مجھے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اور اُن کے حل کے موضوع پر لیکچر دینے کے لئے بلایا گیا، تقریب اور سفارتخانے  کے دورے کے بعد پھر اصلی یونانی حکیم کی تلاش شروع کردی، یونان میں جہاں تک ممکن تھا وہاں تک ہارس بلکہ ہارس پاور گاڑیاں دوڑا دیں کسی حکیم کا کوئی سراغ نہ ملا، پتہ چلا کہ یونان میں حکیم نام کی کوئی شے موجود نہیں۔

مزید :

قومی -