نبی پاک ﷺ کی جانب سے چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا واقعہ، تاریخ اور سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟ آپ بھی جانئے

نبی پاک ﷺ کی جانب سے چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا واقعہ، تاریخ اور سائنس اس بارے ...
نبی پاک ﷺ کی جانب سے چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا واقعہ، تاریخ اور سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟ آپ بھی جانئے

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نبی کریم ﷺ نے چاند کو دو ٹکڑے کرنے کا معجزہ دکھایا تھا جس پر ہر مسلمان کا ایمان ہے۔اس واقعے کے متعلق کئی احادیث موجود ہیں اور قرآن پاک میں بھی سورة القمر کی آیت 1میں اس کے متعلق بتایا گیا ہے۔اس کے علاوہ تاریخ اور سائنس میں بھی اس کے متعلق شواہد موجود ہیں۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق ہندوستان کی تاریخ میں ایک بادشاہ ہو گزرا ہے جس کا نام چکرورتی فارمیس (Chakrawarti Farmas)ہے۔جس وقت رسول اللہﷺ نے یہ معجزہ دکھایا اس وقت اس بادشاہ کی یہاں حکومت تھی اور اس نے خود چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

رپورٹ کے مطابق چکرورتی فارمیس کے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھنے کا واقعہ ہندوستان کی تاریخ پر مبنی ایک کتاب میں موجود ہے۔ یہ کتاب انڈیا آفس لائبریری لندن میں آج بھی موجود ہے اور اس کتاب کا حوالہ معروف مصنف ایم حمید اللہ نے اپنی کتاب ’محمد الرسول اللہ‘ میں دیا ہے۔حمیدہ اللہ نے اس کتاب سے یہ واقعہ کچھ یوں نقل کیا ہے کہ ”مالابار(بھارت کا جنوب مغربی ساحلی علاقہ)میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ بادشاہ چکرورتی نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا۔ جب اس حیران کن واقعے پر اس نے تحقیق کرائی تو دیگر مذاہب کی مقدس کتب سے یہ پیش گوئی سامنے آئی کہ مکہ مکرمہ میں ایک نبی آئے گا جو چاند کے دو ٹکڑے کرے گا۔ یہ پیش گوئی سننے کے بعد چکرورتی نے اپنے بیٹے کو سلطنت کا والی بنا دیا اور خود نبی کریمﷺ سے ملنے مکہ مکرمہ کے سفر پر روانہ ہو گیا اور وہاں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرکے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہﷺ نے چکرورتی کو واپس بھارت جانے کی ہدایت کی تاہم وہ واپسی کے سفر میں ظفر نامی بندرگاہ کے قریب پہنچ کر انتقال کر گیا۔

لندن لائبریری میں پڑی اس ہندوستانی تاریخ پر مبنی کتاب میں راجہ چکرورتی کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گزارے وقت کے متعلق بھی کئی واقعات درج ہیں۔اس کے علاوہ احادیث کی کتب میں بھی راجہ چکرورتی کی رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کے بارے میں شواہد موجود ہیں۔ الحکیم کی کتاب مستدرک میں ابو سید القدری سے روایت ہے کہ ”پھر ہندوستان کے بادشاہ نے رسول اللہ ﷺ کو اچار کی ایک بوتل تحفے میں پیش کی جس میں سرکہ شامل تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ اچار اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں تقسیم کر دیا۔ مجھے بھی یہ اچار ملا اور میں نے کھایا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -