ترجیحات کا از سر نو تعین کر لیں

ترجیحات کا از سر نو تعین کر لیں

  

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مساجد کی انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ بیس نکات پر عمل کیا جو خوش آئند ہے، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ افراد جو غالباً پچاس سال سے زیادہ عمر کے تھے، وہ بھی نمازِ تراویح کی جماعت میں شریک تھے۔انہوں نے علما کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں اس طرف توجہ دلائی،انہوں نے مساجد میں احتیاطی تدابیر کا بنفس ِ نفیس جائزہ لینے کے بعد یہ خط لکھا…… عمومی تاثر بھی یہی ہے کہ مساجد میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ نماز ادا کی گئی۔ البتہ کہیں کہیں احتیاط ملحوظ خاطر نہیں رکھی گئی، حکومت، طبی ماہرین اور دوسرے متعلقہ ادارے بار بار اپیل کر رہے ہیں کہ اگلے پندرہ دن میں کورونا کی وبا تیزی سے پھیل سکتی ہے،جس کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں،اِس لئے عوام الناس کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ کوئی ایسی بے احتیاطی نہ کریں جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔

مساجد میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ نمازیں ادا کی جا رہی ہیں،لیکن بازاروں کا منظر ہی دوسرا ہے، سمارٹ لاک ڈاؤن تو فی الحال کہیں نظر نہیں آیا۔البتہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ خریداری یا گھومنے پھرنے کے لئے گھروں سے باہر نکلنے والوں کی اکثریت حالات کی اس سنگینی سے بے خبر ہے،جس کی طرف بار بار توجہ دلائی جا رہی ہے۔عالمی ادارہئ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے اس غلط فہمی کو بھی دور کر دیا ہے کہ جو ایک بار کورونا کا شکار ہو کر صحت یاب ہو جائے اُسے دوبارہ مرض لاحق نہیں ہوتا۔ادارے کا کہنا ہے کہ یہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے، اِن حالات میں ہر کسی کو اُن ہدایات پر عمل کرنا چاہئے کہ جو عالمی ادارے اور صحت کے ملکی اداروں کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جاتی ہیں۔ اِن ہدایات کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو گا، معاملے کی سنگینی کا اندازہ اِس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب ڈاکٹر اور ہسپتالوں میں کام کرنے والا عملہ بھی تیزی سے متاثرین میں شامل ہو رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایک سینئر پروفیسر ڈاکٹر شہید ہو گئے ہیں اور ملک کے کئی حصوں سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ طبی عملے کے ارکان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کراچی میں دو ہسپتالوں کے سرجیکل وارڈ بند کر دیئے گئے ہیں جہاں دو مریضوں کی سرجری کے بعد پتہ چلا کہ ان میں کورونا وائرس موجود ہے،ایسے کیسز سامنے آنے کے بعد احتیاط کی ضرورت دوچند ہو جاتی ہے اور لاپروائی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

تشویشناک خبروں کے ہجوم میں حوصلہ افزا اطلاعات بھی آ رہی ہیں، جن کی وجہ سے خوف کے سائے سکڑنے کی امید بھی بندھتی ہے، پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان وائرس پر جلد قابو پا لے گا، کیونکہ پوری پاکستانی قوم وائرس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے، آزمائش کی اِس گھڑی میں چینی حکومت، چینی عوام اور پاکستان میں مقیم چینی کمیونٹی وبا سے نپٹنے کے لئے پاکستانی عوام کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ پاکستان کو لاکھوں کی تعداد میں طبی حفاظتی سامان فراہم کیا ہے۔ چینی طبی ماہرین پاکستانی ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں،اِن حالات میں یہ خبر بھی اہمیت رکھتی ہے کہ پنجاب کا ضلع چنیوٹ کورونا وائرس سے پاک ہو گیا ہے،نئے کیسوں کے حوالے سے اگرچہ خبریں تشویشناک ہیں تاہم صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے،ایسے میں ضرورت صرف اِس امر کی ہے کہ احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے، کیونکہ بچاؤ صرف حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے میں ہے، بازاروں میں بلاوجہ کی چہل پہل وائرس کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے،اِس لئے اگر حکومت نے ڈھیل دی ہے تو اس نرمی کا یہ غلط مطلب نہیں لینا چاہئے کہ احتیاط کو بالائے طاق رکھ دیا جائے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے چونکہ علما کے ساتھ مل بیٹھ کر بیس نکاتی فارمولا وضع کیا تھا،اِس لئے انہوں نے رمضان کے آغاز ہی میں اِس امر کا جائزہ لینا ضروری سمجھا کہ وہ خود جا کر دیکھیں کہ اس فارمولے پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے، چنانچہ انہوں نے جو دیکھا اِس جانب علما کو متوجہ کر دیا۔ پچاس سال سے زیادہ عمر کے افراد کو، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کورونا کا آسان ہدف ہو سکتے ہیں، مساجد میں جانے سے منع کیا گیا ہے، لیکن صدر کے خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اِس امر کا مشاہدہ کیا کہ نمازیوں میں پچاس سال سے زائد عمر کے لوگ بھی موجود تھے،اِس لئے انہوں نے اس کی نشاندہی کر دی، حالانکہ پچاس سال سے زیادہ عمر کے علما خود یہ پابندی کر رہے اور مساجد کی بجائے گھروں میں نماز ادا کر رہے ہیں اِس لئے وہ عوام سے بھی پابندی کی توقع رکھتے ہیں اب جبکہ جنابِ صدر نے اِس امر کی نشاندہی بھی کر دی ہے تو توقع کرنی چاہئے کہ اِس سلسلے میں احتیاط برتی جائے گی۔

ایسے وقت میں جب کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے کے خدشات پائے جاتے ہیں اور بظاہر نظر بھی آتا ہے کہ روزانہ تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ڈاکٹر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ لاہور میں ڈاکٹروں کی ایک تنظیم کی طرف سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے کہ اُنہیں حفاظتی کٹس نہیں دی جا رہیں یہ احتجاج اب بڑھتا جا رہا ہے اور بات بھوک ہڑتال تک پہنچ گئی، احتجاج کو دھرنے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، لیکن حکام ان ڈاکٹروں کے مطالبات پر توجہ نہیں دے رہے، بلکہ روزانہ ایسے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں، جو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف تو کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے اور جن لوگوں سے علاج کے لئے رجوع کیا جانا ہے وہ نہ صرف خود متاثر ہو رہے ہیں،بلکہ اُنہیں مطالبات منوانے کے لئے دھرنا بھی دینا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں جب مریضوں کی تعداد بڑھے گی تو کون ان کا علاج کرے گا۔ محسوس ہو رہا ہے کہ آنے والے دِنوں میں افراتفری کا ایک دور ہمارا منتظر ہے،حالانکہ اِس وقت ضرورت نظم و ضبط اور اتحاد کی ہے۔ سندھ میں تاجروں کا ایک گروپ حکومت کے مد مقابل کھڑا ہے اور اپنی شرائط پر کاروبار کھولنا چاہتا ہے۔ سندھ کی حکومت اگر آن لائن کاروبار کی اجازت بعض شرائط کے تحت دینا چاہتی ہے تو اسے یہ بھی منظور نہیں، وہ کاروبار اپنی مرضی اور اپنی شرائط پر کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اِن حالات میں ترجیح ان امور کو ملنی چاہئے جن پر عمل کر کے انسانی جانیں بچ جائیں، حکومت ِ سندھ اگر لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچانے کے لئے اقدامات کرنا چاہتی ہے تو اسے کسی بھی طریقے سے ناکام کرنے کی کوشش ظلم کے مترادف ہو گی اِس لئے ہماری تاجر بھائیوں سے درخواست ہے کہ وہ اگلے پندرہ، بیس دن کے لئے اپنے کاروبار کو بعض شرائط کے تحت کریں تو اِس میں اُن کا اپنا اور اہل ِ وطن کا بھلا ہوگا۔ سندھ میں الزام تراشی کی ایک مہم بھی جاری ہے،جس میں حکومت پر بعض الزامات لگائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ صنعتی و تجارتی مراکز کھولنے کے لئے رشوت طلب کی جا رہی ہے۔ اس الزام کی سندھ حکومت کے ترجمان تردید کر رہے ہیں، لیکن پروپیگنڈہ جاری ہے افسوس مصیبت اور مشکل کی اِس گھڑی میں بھی ہم نے الزام تراشی کا یہ سلسلہ ختم نہیں کیا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا رویہ اوپر سے لے کر نیچے تک جاری ہے۔ کیا ہمارے ہاں کوئی رجل ِ رشید نہیں،جو باہم توتکار روکنے کے لئے کردار ادا کر سکے؟

مزید :

رائے -اداریہ -