پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان

پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان
پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان

  

ماہ مقدس کا آغاز ہوتے ہی پولیس کی زمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ قانون نافذ کر نیوالے اداروں کے لیے یہ ایک چیلنجنگ مہینہ ہے جس میں جہاں ملک و قوم کو کورونا بحران کا سامنا ہے وہیں رمضان المبارک میں پولیس فورس مذہبی مقامات کی سیکیورٹی کے فرائض بھی سر انجام دے گی لیکن اس کے باوجود عوام کی جان و مال کا تحفظ پنجاب پولیس کی اولین زمہ داری ہے۔پنجاب پولیس کے سر براہ کی جانب سے صوبہ کے تمام اضلاع میں دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی ہے اور ڈکیتی، قتل،اغوا ء برائے تاوان سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس طرح کورونا بحران میں پولیس نے دل سے کام کیا ہے وہ قابل ستائش ہے اور یہی وقت ہے کہ اگر پولیس نے عوام کے دل میں گھر بنا لیا تو پھر جرائم کا خاتمہ نہایت آسان ہو جائے گا کیونکہ صرف اور صر ف پولیس اور عوام کے تعاون سے ہی جرائم کا خاتمہ ممکن ہے۔رمضان کے مہینے میں جرائم کی شرح میں ہر سال اضافہ ہو جاتا ہے جسے روکنے کے لیے کے جامع حکمت عملی کے تحت پلاننگ کی اشدضرورت ہے۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ لاہور میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب اور تشویش ناک ہے صرف چار ماہ میں ڈکیتی قتل کے 11واقعات پیش آچکے ہیں جبکہ کروڑوں روپے کی ہونیوالی وارداتیں اس کے علاوہ ہیں۔حقیقت میں زوالفقار حمید اور ان کی ٹیم ڈیلور نہیں کر سکی۔سابق سی سی پی او بی اے ناصر کے ادوار میں ان کی ٹیم نے ریکارڈ کامیا بیاں حاصل کرکے لاہور میں جرائم کی شر ح میں نمایاں کمی کر ڈالی تھی جو کہ موجودہ ٹیم اس سفر کو جاری نہیں رکھ سکی۔بی اے ناصر کے ڈیڑ ھ سالہ دور میں کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا تھا۔لیکن اس ٹیم نے پہلے ماہ ہی سانحہ پی آئی سی سے پولیس مورال کا ستیا ناس کر ڈالا۔خبر ہے کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کو سی سی پی او زوالفقار حمید سے کافی شکایات ہیں کہ وہ شہباز شریف کے خاص الخاص ہیں اب وہ ایک بار پھر بااختیار ہوگئے ہیں۔چیف سیکرٹری کا تبادلہ بھی ان کی وجہ سے ہوا ہے ویسے تو جو بھی ان کے راستے میں آیا اسے منہ کی کھانا پڑی۔لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں انھیں ایک بار پھر بااختیار بنادیا گیا ہے۔آئی جی پولیس کو بھی ہدایت کہ گئی ہے کہ وہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی تبادلہ نہیں کریں گے۔امکان ہے کہ اب سی سی پی او لاہور سمیت بڑے پیمانے پر افسران بالا کے تبادلے عمل میں لائے جائیں گے۔اب بات کرتے ہیں موجودہ صورت حال کیلاک ڈاؤن برقرار رکھنے یا مرحلہ وار لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے پاس معلومات اور جواز ہیں جس کی بنیاد پر فیصلے کئے گئے ہیں یا مستقبل میں انہی معلومات کی بنیاد پر ہی فیصلے ہوں گے۔لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ساتھ ماسک پہنے بغیر گھر سے نکلنے والوں کیخلاف سخت ایکشن ہونا چاہئے اور جو بھی بغیر ماسک کے گھر سے نکلے اسے سزا و جرمانے کا حکم نامہ جاری کیا جائے جس پر ملک بھر میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور کہیں بھی رش نہ بننے دیا جائے اور شہری خود احتیاط کریں ورنہ حکومت اس معاملے پر بھی سزا اور جرمانے کا اعلان کرکے اس پر سختی سے عملدرآمد کرائے۔وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے صبح 8بجے سے شام 5بجے تک لاک ڈاؤن میں نرمی اور جو شعبہ جات کھلے ہیں ان سے منسلک افراد کو اپنے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کیلئے سفر کی اجازت دی گئی ہے اور ماسک لگاکر مناسب فاصلے سے بیٹھ کر سفر کرنے کی حکومتی اجازت ہے اور پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کیلئے نکلنے والے افراد کو جگہ جگہ ناکے لگاکر قانون نافذ کرنیوالے ادارے خود رش بنادیتے ہیں اور کرونا سے بچاؤ کیلئے دی گئی ہدایات کی خود ہی Violationکا سبب بنے ہوئے ہیں اور لاہورمیں ہر سڑک پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی حد سے زیادہ سخت چیکنگ کے باعث جگہ جگہ رش بنا ہوتا ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہئے اور میرے خیال میں تو صبح 8بجے سے شام 5بجے تک احتیاطی تدابیر اختیار کرنے والوں کو بلاروک ٹوک سفر کی اجازت ہونی چاہئے۔لاہورمیں تو پولیس کی جانب سے لوڈڈ ٹرک اور کھانے پینے کی اشیاء لے جانیوالے ٹرک ٹریلرز کو بھی بلاوجہ روک کر تنگ کیا جارہا ہے اور حکومتی اعلانات کے برعکس صورتحال نظر آتی ہے اور جب پولیس ناکوں پر رش لگتا ہے تو میڈیا وہاں کوریج کرکے نشر کردیتا ہے کہ لوگ لاک ڈاؤن کی پاسداری نہیں کر رہے اور سڑکوں پر رش لگ گیا ہے حالانکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو سڑکیں سنسان ہیں اور لوگ خود بھی غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔ غریب لوگوں کا گھروں سے راشن اور خوراک کی تلاش میں نکلنا کسی صورت غیر ضروری نہیں کہا جاسکتا اور سخت لاک ڈاؤن کرنا اگر ضروری ہے تو بھوک سے اموات کو روکنا بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں فلاحی اداروں کا کردار قابل تحسین ہے جو اپنے موجود وسائل کا بھرپور استعمال کرکے مستحقین میں مسلسل راشن کی تقسیم کر رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی شکایات بھی آئی ہیں خصوصاًملک کے بڑے شہروں میں لوگوں نے بغیر ماسک اور احتیاطی تدابیر کے جگہ جگہ رش بنایا اور معاشرے میں وباء کے پھیلنے کے خطرات میں اضافہ کیا۔ ہمیں باشعور قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا اور حکومت کی ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ حکومت کو چاہئے کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں اور جرمانوں کا فور ی اعلان کرے لیکن قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بھی ضروری امور سے سفر کرنے والوں کو غیر ضروری طور پر تنگ کرنے سے روکا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -