پروفیسر ڈاکٹر جاویدکی شہادت المیہ ہے، جاوید قصوری

پروفیسر ڈاکٹر جاویدکی شہادت المیہ ہے، جاوید قصوری

  

لاہور (پ ر)امیرجماعت اسلامی صوبہ پنجاب وسطی و صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ کرونا کے خلاف فرنٹ لائن پرلڑنے والے پروفیسر ڈاکٹر محمدجاویدکی شہادت المیہ ہے۔اس سے قبل ڈاکٹر اسامہ اور ڈاکٹر عبدا لقادر بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔پور ی قوم ان کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک اور ان کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔ ملک بھر میں کرونا مریضوں کی تعداد بارہ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ جبکہ 24گھنٹوں کے دوران مزید15اموات سے مرنے والوں کی کل تعداد 269ہوچکی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ شدت اختیار کرسکتی ہے۔

حکومت نے 1200ارب کہاں خرچ کیے، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ”کرونا آگاہی مہم“ کے سلسلے میں منعقد ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کرونا پر سیاست کررہی ہے۔ ریلیف کی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکمرانوں نے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔ جماعت اسلامی الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر عوام کی خدمت میں مصروف ہے۔ ہم اب تک ایک ارب 35کروڑ روپے امدادی سرگرمیوں پر خرچ کرچکے ہیں۔ اور یہ سلسلہ کرونا کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ مخیر حضرات اس وباء سے نمٹنے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے دل کھول کر امداد دیں۔ یہ آزمائش کی گھڑی ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ مسلسل لاک ڈاؤن کے باعث عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے تاکہ لوگوں کے گھروں میں آنے والے فاقوں کا کچھ سد باب ہوسکے۔ کرونا لاک ڈاؤن کے باعث عوام کو 13کھرب کا نقصان ہوچکا ہے۔ سوا کروڑ افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -