علماء کی مشاورت کے بغیر فیصلے ملک تصادم کی طرف لے جائینگے:نور الحق قادری

  علماء کی مشاورت کے بغیر فیصلے ملک تصادم کی طرف لے جائینگے:نور الحق قادری

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا ہے کہ علماء کرام کی مشاورت کے بغیر فیصلے ہوں گے تو ملک تصادم کی طرف جائے گا۔جیو نیوز کے پروگرام‘جرگہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان سخت لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہے، ملک میں مزدور اور دہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہاہے۔انہوں نے کہا کہ سخت لاک ڈاؤن کرنا بہت مشکل کام ہے، اس میں عوام کا حرج ہے کیوں کہ سخت لاک ڈاؤن سے عام آدمی کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات نہیں ملیں کہ کوئی بھوک سے مرگیا ہو لیکن چیخ وپکار ضرور ہے، دیہی علاقوں میں شادیاں اور تقاریب بھی چلتی رہی ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ علماء کرام کی مشاورت کے بغیر فیصلے ہوں گے تو ملک تصادم کی طرف جائیگا جبکہ میں اور میرے خاندان کے افراد گھر پر تراویح ادا کررہے ہیں۔خیال رہے کہ حکومت اور علماء کرام کے درمیان رمضان المبارک میں مساجد کھولنے اور عبادات کیلئے 20 نکات پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت 50 سال سے زائد عمر والے افراد، بچے اور بیمار لوگ گھر میں ہی نماز ادا کریں گے۔دوسری جانب ڈاکٹرز نے حکومت سے لاک ڈاؤن میں نرمی اور علمائے کرام سے مساجد کھولنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

نورالحق قادری

مزید :

صفحہ آخر -