خصوصی فلائٹس سے 14روز میں 9ہزار سے زائد پاکستانی وطن پہنچیں گے

خصوصی فلائٹس سے 14روز میں 9ہزار سے زائد پاکستانی وطن پہنچیں گے

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کا فلائٹ شیڈول جاری کر دیا۔ آئندہ دو ہفتوں کے دوران ملکی اور غیر ملکی ایئر لائن کی مجموعی طور 45 پروازیں آپریٹ ہونگی جن سے نو ہزار سے زائد پاکستانی واپس آئیں گے۔ملکی اور غیر ملکی پروازوں کے ذریعے بیرون ملک پھنسے ساڑھے 9 ہزار پاکستانیوں کی وطن واپس ہوگی۔ پی آئی اے کی 29 پروازوں پر 5 ہزار 730 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جائیگا۔قطر ایئر لائن کی 7 پروازیں کے ذریعے 1 ہزار 750 پاکستانیوں کی واپسی ہوگی۔ یو اے ای ایئر لائن کی 8 پروازیں کے ذریعے 2 ہزار پاکستانی وطن واپس آئینگے اور پی آئی اے کی 19 پروازیں یو اے ای کیلئے آپریٹ ہونگی۔شیڈول کے مطابق متحدہ عرب امارات سے 19 پروازوں کے ذریعے 3 ہزار 600 سے زائد پاکستانی وطن واپس آئیں گے۔ پی آئی اے کی سعودی عرب، بحرین اور اومان کیلئے 2، 2 پروازیں آپریٹ ہونگی جبکہ برطانیہ، ترکی، سوڈان اور کینیا کے لیے ایک ایک پرواز آپریٹ ہوگی۔پاکستانیوں کیلئے چلائی گئی 12 پروازیں کراچی ایئرپورٹ 9،9 پروازیں فیصل آباد اور لاہور ایئر پورٹ پر لینڈ کرینگی۔ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی 6 خصوصی فلائٹس اسلام آباد، 5 ملتان اور 4 پشاور ایئرپورٹ اتریں گی۔

فلائٹ شیڈول

اسلام آباد،لاہور (این این آئی)سری لنکا کی جیلوں میں ان پاکستانی قیدیوں کے لواحقین جن کو واپس لانے والے قیدیوں کی لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے،انکو واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمشنر سعد خٹک نے ایک ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ 49 قیدیوں کو 2004 کے قیدیوں کے منتقلی کے معاہدے کے تحت پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت 94 قیدی سری لنکا کے مختلف جیلوں میں موجود ہیں جس میں 11 خواتین بھی ہیں۔ ان میں 78 کو سزا ہوئی ہے اور 16 پر کیسز چل رہے ہیں۔ خٹک کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان، وزارت داخلہ اور دفتر خارجہ نے پاکستانی قیدیوں کی منتقلی کے لئے تمام انتظامات کئے تھے لیکن کورونا وبا کی وجہ سے یہ منتقلی ملتوی ہوئی ہے۔پاکستانی سفارتخانہ سری لنکن حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سری لنکا نے قیدیوں کی منتقلی کے لئے 2004 میں معاہدہ کیا تھا۔ حکومت نے 49 قیدیوں کی منتقلی کا پروگرام بنایا ہے لیکن 28 دیگر پاکستانی قیدی اس لسٹ میں شامل نہیں۔ جن قیدیوں کو واپس لانے والوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے ان میں دو قیدیوں کے رشتہ داروں نے کہا ہے کہ اگر انہیں نہیں لایا گیا تو کورونا وباء سے ان کو خطرہ درپیش ہے۔ دریں اثناپاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز نے 9مئی تک بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے10ہزار پاکستانیوں کو واپس وطن کیلئے حکمت عملی تیار کرلی،پی آئی ایپی آئی اے سول ایوی ایشن کے ایس او پیز پر مکمل طور پر عملدرآمد کرے گی۔ کسی مسافر میں کرونا وائرس مثبت آیا تو اسے14روز کیلئے قرنطینہ میں رکھا جائیگا۔مسافر فرانس،برطانیہ،ملائیشیاء،متحدہ عرب امارات،جرمنی،بحرین، اوسلو اورقطر سے اائیں گے۔

سری لنکا قیدی

اسلام آباد (این این آئی)سعودی عرب میں پاکستانی مزدور پریشان، حکومت سے مدد کی اپیل کر دی۔مزدور وں نے بتایاکہ سعودی عرب میں چھ سات ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، ہم لوگ بغیر اقامے کے ہیں، آج تک اقامہ نہیں بنا،اقامہ نہ ہونے کی وجہ سے سعودی عرب میں پھنس گئے ہیں، واپس نہیں جاسکتے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سے ویزے خرید کر سعودی عرب آئے تھے، ہماری کیا غلطی ہے؟ایک ماہ سے زائد عرصہ سے بغیر کام کے بیٹھے ہیں، کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں،انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ہماری مدد کریں، ہم مزدور لوگ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک ہی کمرے میں ساتھ ساتھ جڑ کر سونے پر مجبور ہیں، اس وجہ سے کورونا کے شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فاقہ کشی تو پہلے ہی بھگت رہے ہیں، ہماری بروقت مدد نہ ہوئی تو خودکشی پر مجبور ہوں گے۔دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پھنسے پاکستانی جن کے پاس اقامے نہیں ان کی واپسی آسان نہیں۔ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ یہ پاکستانی ایک سال سے سعودی عرب میں ہیں تاہم ان کو اقامے جاری نہیں ہوئے، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کی طرف سے ان سے کئے گئے وعدے پورے کئے گئے، ان پاکستانیوں نے پروموٹر کو بھاری معاوضے ادا کئے، یہ پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن اقامے نہ ہونے کی وجہ سے ایسا بہت مشکل ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ ان کا سعودی عرب سے خروج صرف لیبر کورٹ کے ذریعہ ہی ممکن ہے، ان پاکستانیوں کو اپنے بقایا جات اور واپسی کیلئے لیبرکورٹ جانا ہوگا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ جدہ میں پاکستانی قونصل خانہ ان کیلئے راشن کا انتظام کر رہا ہے، صورتحال سے پاکستان میں متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے، اوورسیز ایمپلائمنٹ بیورو نے پروموٹر کے خلاف کاروائی شروع کردی ہے۔

پاکستانی واپسی

مزید :

صفحہ آخر -