کرونا شبہ میں ہلاکتیں،میتیں آئسولیشن وارڈز میں رکھنے کا انکشاف

کرونا شبہ میں ہلاکتیں،میتیں آئسولیشن وارڈز میں رکھنے کا انکشاف

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)نشتر ہسپتال کے کورونا آئی سو لیشن وارڈز مردہ خانہ کا منظر پیش کرنے لگا،گزشتہ دو روز کے دوران دوران 7افراد نے دم توڑ دیا،04 کی کورونا کے حوالے سے رپورٹ نیگیٹیو،03 کی رپورٹس کا انتظار،آئی سو لیشن کے پانچ وارڈز میں کورونا میں مبتلا 14،شبہ میں 33 مریض زیر علاج ہیں تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال انتظامیہ کی کورونا کے مریضوں کی منیجمنٹ کے حوالے سے بنائی گئی(بقیہ نمبر25صفحہ6پر)

انوکھی پالیسی نے کورونا وارڈز میں کام کرنے والے عملے کو پریشانی کا شکار کر دیا ہے،ایمرجنسی سے تمام سنجیدہ نوعیت کے مریضوں کو بغیر معائنہ کئے آئی سو لیشن وارڈز منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں تک پہنچتے ہوئے یا تو مریض دم توڑ چکا ہوتا ہے یا پہنچ کے دم توڑ دیتا ہے اور بیشتر مریضوں کی اموات واقع ہونے کے بعد انکے نمونے حاصل کئے جاتے ہیں اس دوراں میتیں آئی سو لیشن وارڈز میں پڑی رہتی ہیں،اسی طرح گزشتہ دو روز کے دوران آئی سو لیشن وارڈز میں 07 افراد نے دم توڑا جن میں سے 04کی کورونا کے حوالے سے رپورٹ نیگیٹیو جبکہ 03کی رپورٹس کا انتظار ہے جبکہ نشتر ہسپتال کے پانچ آئی سو لیشن وارڈز میں اس وقت کورونا میں مبتلا 14 مریض زیر علاج ہیں جبکہ گزشتہ چوبیس گھٹنوں کے دوران 01 مزید مریض میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کورونا کے شبہ میں 33 مریض زیر علاج ہیں جن میں مختلف اوقات میں سعودیہ اور شارجہ سے پاکستان پہنچنے والے مسافر بھی شامل ہیں۔ نشتر ہسپتال کے وارڈ 23 کی نرسنگ آفیسر رقزا میں گزشتہ روز کورونا کی تصدیق ہو گئی جسے فوری طور پر وارڈ 28 میں آئی سو لیٹ کر دیا گیا جبکہ آج رقزا کے اہل خانہ کے نمونے لیبارٹری بھجوائے جائیں گے،ادھر ہائی رسک ایریاز میں صرف ڈاکٹرز کو n95 ماسک دینے پر ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے صائمہ یامین،نورین اور دیگر نے کہا کہ اس نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی تو کہا گیا کہ نرسز کو اس کی ضرورت نہیں ہے،پلمونولوجی کی تمام نرسز کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے, جن میں ایک نرسنگ آفیسر رقزا کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آ گیا،رقزا کی فیملی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے،جبکہ اس سے قبل بھی نرسز کورونا کا شکار ہو چکی ہیں، جب نرسز کو ماسک نہیں دے سکتے تو ان سے ہائی رسک ایریاز میں کیوں ڈیوٹی کروائی جا رہی ہے۔ نشتر ہسپتال میں فی الوقت پانچ وارڈز کو کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مختص کیا گیا ہے اس حوالے سے نشتر ہسپتال کے فوکل پرسن ڈاکٹر عرفان ارشد کا کہنا تھا کہ اب تک نشتر ہسپتال کے وارڈ نمبر 22، 26، 27، 28 اور 29 کے تقریبا 88 بیڈز کرونا کے مریضوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔ اس طرح اب نشتر ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ ایک آئسولیش بلاک پر مشتمل ہے،ان وارڈز میں سے وارڈ نمبر 26 میں تمام سہولیات سے آراستہ ایک الگ لیبر روم، آپریشن تھیٹر اور الٹرا ساؤنڈ روم کورونا کے مریضوں کے لیئے بنا دیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ اسی وارڈ کے 5 کمرے کورونا کے مریضوں کی سرجری کے مسائل کا علاج کرنے کے لئے مختص ہیں تاکہ کورونا کے مریضوں کو ایک ہی جگہ پر تمام سہولیات مہیا کی جاسکیں،جبکہ وارڈ نمبر 27 کو سنجیدہ نوعیت کے مریضوں کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ اس میں 5 کمروں پر مشتمل ایک ICU کام کر رہا ہے جن میں 5 وینٹی لیٹر بھی موجود ہیں جن کو صرف کورونا کے مریضوں کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے،یاد رہے کہ یہ ICU نشتر ہسپتال کے مرکزی ICU سے الگ ہے لیکن اس میں ICU کا ماہر عملہ ہی ڈیوٹی دے رہا ہے،اسکے علاوہ اسی وارڈ 27 میں 5 کمروں پر مشتمل HDU بھی ہے۔ جبکہ باقی 10 کمرے بھی صرف سنجیدہ نوعیت کے مریضوں کے لئے ہیں، علاوہ ازیں وارڈ نمبر 28، 29 اور 22 کم بیمار یا وہ جن میں علامات نہ ہونے کے برابر ہیں ان مریضوں کے لئے ہیں،تاہم یہ تقسیم مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث تبدیل بھی ہو جاتی ہے،نشتر ہسپتال انتظامیہ ان سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور ان میں اضافہ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ وائس چانسلر اور پرنسپل کی طرف سے الگ کورونا ایمرجنسی بلاک کی تشکیل کا کام شروع ہو چکا جو چند دن میں اپنا کام شروع کر دے گا۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -