کبیروالا: خاتون کی پر اسرار موت‘ متضاد بیانات‘ تحقیقات کوبریکیں

کبیروالا: خاتون کی پر اسرار موت‘ متضاد بیانات‘ تحقیقات کوبریکیں

  

کبیروالا(تحصیل رپورٹر) دیور کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونیوالی خاتون کی موت سوالیہ نشان بن گئی،ا تفصیل کے مطابق پولیس تھانہ سٹی کبیروالا میں مقتولہ فرزانہ بی بی کے بھائی کی مدعیت میں بجرم 302کے تحت درج مقدمہ نمبری 154/20میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم ضیاء الحق فاروقی نے جائیداد کے تنازعہ پر طیش میں آتے ہوئے اپنے گونگے بہرے بھائی محمد امتیاز احمد کی بیوی اور اپنی بھابی فرزانہ بی بی پرسیدھی فائرنگ کرکے اسے شدید زخمی کردیا،جو نشتر ہسپتال ملتان میں شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئیں۔جبکہ متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پوسٹ مارٹم نہ کئے جانے کی درخواست کیلئے دائرکردہ تحریری درخواست میں مقتولہ کے بھائی محمد جاویدولدعبدالرحمن کمبوہ سکنہ بستی ظہور آباد نے موقف اپنا یا ہے کہ وقوعہ کے وقت میں اور میری والدہ منظوراں مائی اپنی ہمشیرہ فرزانہ بی بی کے گھر میں موجود تھے کہ اچانک فائر کی آواز سنی اور دوڑ کر اس کمرے میں گئے تو مقتولہ زخمی حالت میں تھی اور پسٹل زمین پر پڑا ہوا تھا اور مضروبہ نے بتایا ہے کہ میں گھریلو حالات سے پریشان تھی،اس لئے میں نے اپنے آپ کو فائر مار لیا تھا،بعدازاں مضروبہ نشتر ہسپتال میں جان بحق ہوگئی اور پولیس تھانہ سٹی کبیروالا نے از خود اطلاع پاکر تحریر بناکر مقتولہ کے دیور ملزم ضیاء الحق فاروقی کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد مقدمہ درج کرلیا ہے۔مقتولہ کے جان بحق ہونے کے تناظر میں ایک غیر مصدقہ موقف سوشل میڈیا پر بتایا جارہا ہے کہ جس کے مطابق مقتولہ نے اپنی نزاعی بیان میں کہا کہ گولی اتفاق سے چلی،جو مجھے آلگی۔مقتولہ فزرانہ بی بی کو قتل کیا گیا ہے،اس نے گھریلو پریشانی سے خود کشی کی ہے یا پھر اتفاقیہ طور پر چلنے والی گولی لگنے سے موت واقع ہوئی ہے،یہ تینوں موقف محکمہ پولیس کیلئے قانون اور میرٹ پر مذکورہ مقدمہ کی تفتیش کرکے حقائق منظر عام پر لانے کیلئے چیلنج اور عوام کے لئے صورت حال سمجھنے کیلئے سوالیہ نشان ہیں۔دستیاب ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے حکام بالا سے رابطے کرکے مذکورہ کیس کی تفتیش کسی ایماندار اور میرٹ پسند پولیس افسر سے کرانے اور حقائق کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بریکیں

مزید :

ملتان صفحہ آخر -