علامہ ساجد علی نقوی کا بشارت قریشی سے ٹیلی فونک رابطہ‘ فطرہ کی ادائیگی کے حوالے سے گفتگو

  علامہ ساجد علی نقوی کا بشارت قریشی سے ٹیلی فونک رابطہ‘ فطرہ کی ادائیگی کے ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے شیعہ علماء کونسل جنوبی پنجاب کے ترجمان بشارت قریشی سے ٹیلی فون پر رمضان المبارک کی فضیلت اور فطرہ کی ادائیگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک ضیافت الہی کامہینہ ہے۔رمضان المبارک خداوند تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کیلئے مہمان نوازی کا مہینہ ہے۔جس کے دن بہترین دن،جس کی راتیں بہترین راتیں اورجس کے لمحے بہترین لمحے ہیں۔رمضان المبارک انسان کو اپنی نیت کو خالص کرنے اور گناہوں سے بچنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے صرف روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریاکاری نظر نہیں آتی۔روزہ کے ظاہری آثارنہیں ہوتے اس لئے یہ خالص ترین عبادت شمار ہوتی ہے روزہ کے جسمانی آثار سے زیادہ روحانی آثار ہوتے ہیں جو انسان کے روحانی درجات کی بلندی کا باعث بنتے ہیں۔رمضان المبارک کی بے انتہا فضیلتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان کو ہمت باندھ کراس ماہ کی فیوض و برکات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے تاکہ یہ توشہ اس کی دنیا و آخرت کے لئے مفید ثابت ہواس ماہ مبارک میں ہرصحت مند مسلمان کو روزہ کے فرض کی ادائیگی پر انتہائی سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے۔قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ جو شخص ماہ صیام میں مریض ہو اور آئندہ رمضان تک روزہ نہ رکھ سکتا ہووہ اپنے ایک دن کے روزہ کے بدلے فدیہ ادا کر ے گاجو فی یوم750گرام گندم یا مقامی مارکیٹ کے مطابق قیمت ہو گی،جس شخص نے ماہ رمضان کا روزہ جان بوجھ کر نہ رکھاہو یا افطاری سے قبل کھول دیا ہو تواس کا کفارہ 60مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔ایک مسکین کے لئے کھانا 750گرام گندم یا قیمت ہو گی اس طرح 60مساکین کیلئے 45کلو گندم یا اس کی قیمت ادا کر نا ہو گی جو مقامی مارکیٹ کے مطابق ہو گی۔علامہ سید ساجد نقوی نے فطرہ کا پوچھنے پر بتایا کہ شریعت کے مطابق ہر شخص پر فطرہ واجب ہے جو عید الفطر کی رات غروب آفتاب کے وقت بالغ،عاقل،اپنے حواس رکھتاہواور فقیر نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ اپنا اور ان تمام افراد کا جو اس کے زیر کفالت ہوں فی کس تین کلو ان غذا?ں میں سے جو اس کے شہر یا علاقے میں استعمال ہوں،مثلاًگندم،جو، چاول،مکئی،کھجور،کشمش وغیرہ یااس کی قیمت مستحق شخص کو دے،عید الفطر کی رات غروب آفتاب سے پہلے آنے والے مہمان کا فطرہ بھی صاحب خانہ پر واجب ہے جبکہ غروب آفتاب کے بعد آنے والے مہمان کا فطرہ صاحب خانہ پر واجب نہیں ہے۔زکوٰۃ فطرہ کا استحقاق وہ شخص رکھتا ہے جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر کے اخراجات نہ ہوں اور اس کاکوئی روز گار بھی نہ ہو جس کے ذریعے وہ اپنے اہل و عیال کا سال بھر خرچہ پو را کر سکے جبکہ خود مستحق شخص پر فطرہ واجب نہیں ہے،نیز فطرہ کے مستحق وہی افراد ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں البتہ فطرہ دینے کیلئے ترجیح غریب ترین رشتہ دار یااپنے شہر والوں کو دی جائے۔

خطرہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -