کسٹم ٹرمینل کی زیادہ تر اراضی کی ملکیت ہماری ہے:محمد رحمان

کسٹم ٹرمینل کی زیادہ تر اراضی کی ملکیت ہماری ہے:محمد رحمان

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان کے تحصیل برمل کا علاقہ انگور اڈہ بارڈرپر تعمیر ہونے والی کسٹم ٹرمینل کی زیادہ تر زمین کی ملکیت ہماری ہے لیکن زلی خیل اور ضلعی انتظامیہ ہماری اپنی زمین تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ہم نے عدالت سے کسٹم ٹرمینل میں آنے والی ہماری زمین کے متعلق سٹے آرڈر بھی لیا ہے لیکن اسسٹنٹ کمشنر وانا عدالت کے حکم کے باجود ہماری زمین کے سودے دوسرے زلی خیل مشران کے ساتھ کررہے ہیں جو سراسر زیادتی اور ظلم ہے، ان خیالات کا اظہار محمد رحمان اور عبدالرشید یارگل خیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباََ ایک سو کنال کے قریب زمین کسٹم ٹرمینل میں ہماری ذاتی ملکیت ہے جبکہ احمدزائی وزیر کے تمام قبائل یہ تسلیم بھی کرچکے ہیں کہ ٹرمینل کی زیادہ زمین آپ لوگوں کی ہے لیکن ضلعی انتظامیہ ہماری ملکیت کا لین دین سودے زلی خیل قوم کے مشران سے کررہے ہیں جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے، انہوں نے کہا کہ جس زمین پر حکومت نے کسٹم ٹرمینل تعمیر کیلئے نشانات لگا کر تعین کیا ہے اس کو اکھاڑ کر پھینکیں دینگے کیونکہ ہم اپنے ابا وجداد کی جائیدادہماری مرضی کے بغیر کسی کو دینے کیلئے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسٹم ٹرمینل کی تعمیر کے مخالف نہیں انگوراڈہ بارڈر پر ٹرمینل کی تعمیر کے سلسلے میں جو معاہدہ حکومت کے ساتھ طے ہوا ہے ہم بھی اسکی مکمل پاسداری کرنے کے پابند ہیں لیکن جب تک ہماری کسٹم ٹرمینل میں آنے والی زمین کی تعین نہ ہوسکے اس وقت تک حکومت کو ٹرمینل تعمیر نہیں ہونے دینگے، واضح رہے کہ کہ پاک افغان بونڈری کے سرحدی علاقہ انگور آڈہ پر کچھ سال پہلے کسٹم ٹرمینل بنانے کی منظوری ہوچکی ہے لیکن کچھ اعلی حکومتی شخصیات کو آنگور آڈہ چیک پوسٹ سے روزانہ کی بنیاد پر سمگلنگ کے دھندے اور بھتہ وصولی سے کروڑوں روپے آمدن وصول ہوتی ہے اور حکومتی خزانے میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں ہوتا، ذرائع کے مطابق متعلقہ اعلی حکام مختلف قسم کے حیالے اور بہانے اور مقامی سطح پر لوگوں کو استعمال کرکے کسٹم ٹرمینل بنانے میں روڑے آٹکا رہے ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقہ انگور سے لیکر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن تک کا علاقہ کسٹم فری زون بن چکا ہے مختلف اداروں کے درجنوں پوسٹ ہونے کے باوجود سمگلر مافیا اور حکام کی گھٹ جوڑ سے انگور آڈہ کے راستے افغانستان سے بڑے پیمانے پر غیرملکی مصنوعات جن میں چائے، کپڑا،کاڑیوں کے پارٹس، ڈرائی فروٹ، چلغوزہ، انڈین ادویات، غیرملکی سگریٹ، آئس، ڈیزل، با آسانی اندرون ملک سمگل ہوتی ہے جس سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -