وائرس کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں:سکندر حیات شیر پاؤ

وائرس کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں:سکندر حیات شیر پاؤ

  

چارسدہ(بیو رو رپورٹ) قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئر مین اور سابق سینئر وزیر سکندر حیات خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کو روکنے کیلئے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں لیکن ہماری حکومت تاحال اندھیرے میں ہے اور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے کنفیوژن کا شکار ہے۔ ڈاکٹرز کے پاس وافر مقدار میں کٹس دستیاب نہیں۔ کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے ٹیسٹنگ صلاحیت کم ہے یہی وجہ ہے کہ کرونا کے کیسز بھی کم آر ہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ پریس کلب کے صدر سبزعلی خان ترین کے ساتھ انکے بھائی سردار علی خان ترین کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل سکندر شیر پاؤ نے علاقہ آبازئی میں کرونا سے شہید ہونے والے پروفیسرڈاکٹرجاید کے گھر جا کر انکے لواحقین سے تعزیت اور مرحوم کی روح کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے سکند رحیات شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ کرونا ایک عالمی وباء ہے اور پاکستان بھی برابر اسکا شکار ہے۔ حکومت کے پاس اس وبائی صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی ٹھوس پلان ہے اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں سے کوئی تعاون طلب کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ایسی صورت حال میں جب پوری قوم کو یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے حکومت کی تمام تر توجہ سیاسی فوائد کے حصول پر مرکوز ہے۔ ہمیں سیاست کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد میں فیصلے کرنے ہونگے۔ کرونا کے باعث تباہ حال معیشت مزید تباہی کی جانب گامزن ہے،لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور مزید لاکھوں بے روز گارہونے جا رہے ہیں، بیرون ملک بے روز گار ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے, صرف تعمیرات کے شعبے سے ملک کے معاشی مسائل حل نہیں ہونگے۔ملک و قوم پر ایک کٹھن اور مشکل وقت آنے والا ہے، کرونا وائرس کے حملے مزید تیز ہو سکتے ہیں، مریضوں کی تعداد اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیئے حکومت کو ایک ایسی مربوط حکمت عملی مرتب کرنا ہو گا جسمیں کروانا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ معاشی بدحالی بھی نمٹا جا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں سکندر شیر پاؤ کا کہنا تھا کہہ ہم اکیلئے اس وباء کا مقابلہ نہیں کر سکتے عالمی امدادی اداروں کو ہماری مدد کرنی ہو گی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پورے ملک اور خصوصاَ خیبر پختون خوا میں فلاحی اداروں کوامدادی کاموں کی اجازت دینی چاہیے تاکہ اس مشکل وقت میں حکومت کا ہاتھ بیٹھا سکے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -