محکمہ اطلاعات کیجانب سے ضم شدہ اضلاع میں پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم

محکمہ اطلاعات کیجانب سے ضم شدہ اضلاع میں پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم

  

باجوڑ(نمائندہ پاکستان) محکمہ اطلاعات خیبر پختونخواہ کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم، آزمائشی نشریات کا آغاز۔ باقاعدہ افتتاح صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر کرینگے۔ محکمہ اطلاعات صوبہ خیبر پختونخواہ کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم ہوگیا ہے۔ محکمہ اطلاعات خیبر پختونخواہ نے انتہائی قلیل مدت میں کرونا جیسی خطرناک صورتحال کے باوجود بھی احتیاطی تدابیر اپنا کر ضم شدہ اضلاع میں پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم کردیاہے اور آزمائشی نشریات بھی شروع کردی ہیں۔ ضلع باجوڑ میں قائم ہونیوالے پختونخواہ ریڈیو باجوڑایف ایم 91.1کے انچارج پروڈیوسر فطرت بونیری نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پختونخواہ ریڈیو باجوڑ کا باقاعدہ افتتاح صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر کرینگے۔ انہوں نے باجوڑ کے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں ریڈیو اسٹیشن نے آزمائشی نشریات کا آغاز کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پختونخواہ ریڈیو 91.1لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ تفریح کا بھی ذریعہ بنے گا۔فطرت بونیری نے کہا کہ ریڈیو اسٹیشن غلط معلومات اور پروپیگنڈوں کے روک تھام میں اہم کردار ادا کریگا اور ضلع باجوڑ کے عوام کو درست معلومات فراہم کریگا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں دینی مسائل اور رمضان المبارک کے فضیلت پر خصوصی پروگرام نشر کئے جائینگے اور یہاں کے ممتاز علمائے کرام پروگراموں کے میزبانی کرینگے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کیلئے بھی خصوصی پروگرام رکھے گئے ہیں جبکہ یہاں کے ثقافت کو اجاگر کرنے کیساتھ ساتھ تعلیم کا فروغ اور صحت کے مسائل پر بھی خصوصی پروگرامات ہونگے۔ ہم اپنے نشریات میں صحت کے مسائل پر خصوصی توجہ دینگے کیونکہ آج کل کرونا وائرس کی خطرناک صورتحال میں لوگوں کی بہتر رہنمائی بہت ضروری ہیں۔ یادرہے کہ محکمہ اطلاعات خیبر پختونخواہ نے پانچ نئے ضم شدہ اضلاع میں ریڈیو اسٹیشنز کے قیام کی منظوری دی تھی جن میں شمالی وزیر ستان، جنوبی وزیرستان،ضلع کرم، ضلع مہمند اور ضلع باجوڑ شامل ہیں۔ضلع باجوڑ ان مذکورہ ضم شدہ اضلاع میں پہلا ضلع بن گیاہے جہاں ریڈیو اسٹیشن کے قیام پر کام َ مکمل کرکے آزمائشی نشریات بھی شروع کردی گئی ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -