وزیر اعلیٰ کے قول و فعل میں تضاد نظر آرہا ہے،خرم شیر زمان

وزیر اعلیٰ کے قول و فعل میں تضاد نظر آرہا ہے،خرم شیر زمان

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیرزمان نے کہاہے کہ وزیر اعلیٰ موجودہ صورتحال میں ضد پر آگئے ہیں،ان کے قول و فعل میں تضاد نظر آرہا ہے،کراچی کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے شہر میں موجود ہر مسئلے کو اجاگر کرنا میری ذمہ داری ہے،ہم صرف تنقید نہیں بلکہ آپ کو مشورہ دے رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ کے ساتھ بیٹھے تین چار لوگ اہل نہیں ہیں،انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خرم شیرزمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ موجودہ صورتحال میں ضد پر آگئے ہیں۔ان کے قول و فعل میں تضاد نظر آرہا ہے۔کورونا سے ہم نے لڑنا اور بچنا ہے بھاگنا نہیں ہے۔کراچی کے ساتھ سندھ حکومت کے رویے پر بے حد افسوس ہے۔کراچی کو سندھ حکومت نے مکمل نظرانداز کیاہوا ہے،کراچی کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔کاروباری شخصیات کی دکانیں سیل کی جارہی ہیں۔کاروباری شخصیات کو مختلف طریقے سے میسیج بھجے جارہے ہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سینئر نائب صدر پی ٹی آئی کراچی محمود مولوی، جنرل سیکریٹری کراچی سعید آفریدی، ترجمان کراچی و رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی، رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی، عمران صدیقی اور دیگر موجود تھے۔خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا فنڈ میں تاجروں کو فنڈ جمع کرانے کے پیغام ملے۔وزیراعظم سے کراچی کے حالات پر نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہیں۔کراچی کے اندر آج بھی بہت زیادہ مسائل ہیں۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکس دینے والا شہر ہے۔وفاقی حکومت اس بات کا نوٹس لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کو مشورہ ہے کہ ایک یونین کاؤنسل کو سلیکٹ کریں۔اسے آپ مثالی بنائیں اسے کھولیں اور کاروبار چلائیں۔اس کا رزلٹ دیکھیں ایک ہفتے میں کیا آتا ہے۔دیگر ممالک میں ایس او پیز کے تحت انہیں کھول دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کراچی سندھ حکومت کو اس مثالی یوسی کے لیے مکمل سپورٹ کررہی ہے۔ہم صرف تنقید نہیں بلکہ آپ کو مشورہ دے رہے ہیں۔ کراچی کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے شہر میں موجود ہر مسئلے کو اجاگر کرنا میری ذمہ داری ہے۔وزیر اعلیٰ کے ساتھ بیٹھے تین چار لوگ اہل نہیں۔وزیر اعلیٰ کو اپنے ساتھ اپنے ارد گرد قابل لوگ بٹھانے کی ضرورت ہے۔آن لائن کاروبار کی لوگوں کو معلومات ہی نہیں۔بند شٹر کے اندر لوگ گرمی سے مرجائیں گے۔لوگوں کو سمارٹ فون کا پتہ ہی نہیں ہے۔ہماری سمجھ سے باہر ہیں ان کی ایس او پیز۔سندھ حکومت فوری آل پارٹیز کانفرنس بلوائے۔سندھ حکومت کا تو کراچی میں کوئی اسٹیک نہیں،انہیں ووٹ کہیں اور سے پڑتے ہیں۔آپ کراچی پر اپنے من مانے فیصلے مسلط کررہے ہیں۔18 ویں ترمیم کے بعد قیمتوں کا تعین صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔سندھ حکومت کی انتظامیہ کہاں ہے۔انتظامیہ لوٹ مار میں ملوث ہے۔خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سارا دن ٹی وی پر باتیں کرتے رہتے ہیں۔کراچی میں ماسک نہیں ہے اور نادر شاہی حکم جاری کردیا جاتا ہے۔سندھ میں لوگوں کو 13 سال پرانا راشن بھیجا گیا ہے۔بتایا جائے کس دوست کے فیکٹری سے خریدا گیا ہے سامان۔سندھ حکومت ایک دو چمچوں کے علاوہ سینئر لیڈرشپ کہاں ہے۔بلاول کیا کورنٹائن میں چلے گئے ہیں۔سندھ میں لوگ بھوک سے مررہے ہیں زرداری غائب ہیں۔دن میں نوٹیفیکیشن نکالتے ہیں رات کو ٹی وی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر پاکستان رات میں جاکر تراویح کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔سندھ حکومت نے تو ہمیں دین کا بھی نہیں چھوڑا۔جیالے اپنے رہنماؤں سے سوال کریں۔پہلے فیز کا راشن چھوڑو اب رمضان میں کون راشن دے گا۔سندھ حکومت فوری سندھ بار کاؤنسل کے لیے گرانٹ کا اعلان کرے۔آج ہم نے سندھ حکومت کو ماڈل یوسی کی تجویز دی ہے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری و رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی کا کہنا تھا کہ اس وقت پی پی کی لیڈرشپ غائب ہے،جیالوں سے عرض ہے کہ اپنے وزراء اور رہنماؤں کو باہر نکالیں۔ہم آج اپوزیشن کا رول ادا کررہے ہیں۔لوگوں کے حالات بہت برے ہیں سفید پوش گھروں تک محدود ہیں۔پی پی کا فوکس ہے کہ کورونا سے ڈرنا اور بھاگنا ہے۔وزیر اعظم کراچی میں سندھ حکومت کے ظلم کا نوٹس لیا۔سندھ حکومت کے پاس عقل نہیں ان کے دماغ خالی ہیں۔لوگ کورونا سے نہیں بھوک سے مررہے ہیں۔وزیر اعلیٰ کی طرح ساری انتظامیہ کورنٹائن میں چلی گئی ہے۔صابن دیتے ہوئے بھی وزراء فوٹو لیتے ہیں۔راشن کے وقت کسی کو پتہ ہی نہیں چل رہا ہے۔راشن کس کو دیا کہاں دیا کوئی علم نہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -