"صحافیوں کو پڑنے والی گالیوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ مولانا . . ." ثنا بچہ بھی بول پڑیں

"صحافیوں کو پڑنے والی گالیوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ مولانا . . ." ثنا بچہ بھی بول ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان کی ٹیلی تھون نشریات میں مولانا طارق جمیل اور اینکر پرسنز میں پیدا ہوئے اختلافات پر چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب اس معاملے میں ثںا بچہ بھی کود پڑی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ثنا بچہ لکھتی ہیں کہ "صحافیوں کو پڑنے والی گالیوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ مولانا اور خادم رضوی کے سوشل میڈیائی مجاہد ایک ہی ہیں۔۔۔"

ثنا بچہ کے طنز کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین نے اپنی توپوں کے رخ ان کی جانب کر لیے ۔ 

آزاد کاسترو نامی ایک صارف نے لکھا "چلو اچھا ہوا اس بحث کی وجہ سے صحافت کے لبادہ میں چھپے ہوے بھیڑیوں اور لومڑیوں کا عوام کو اچھی طرح پتہ چل گیا۔"

زاہد صدیق نے لکھا "آپ جیسی کالی بھیڑوں کو آئینہ دکھایا تو آپ برا مان گئے اور اس میں تکلیف انہی کو ہو رہی پے جو زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔"

ایک اور صارف تینا مان نے لکھا کہ "اس دینا میں نیک روحیں بس صحافی ہی ہیں جو لوگوں کے بیڈ روم کی باتیں تک بتا دیتے ہیں"

فہد پرنس نے لکھا کہ "اس واقعے کے بعد مولانا طارق جمیل صاحب کا قد اور بڑھ گیا ہے جو دنیا دیکھ بھی رہی ہے اگر اندھیرا گہرا ہو تو پھر روشنی کی طاقت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے ۔"

رفیق خان نے لکھا کہ "دین کے خادم ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھے ہوگئےہیں۔ لفافوں کی چیخیں 7 آسمانوں تک سنائی دی جا رہی ہیں"

عدنان نبی نامی صارف نے اپنا خیال پیش کرتے ہوئے کہا "سچ تو یہ ھے کہ میڈیا کو پڑنے والی گالیوں سے اندازہ ہورہا ھے کہ عوام آپ سب سے کتنی نفرت کرتی ھے یہاں تک کہ لوگ آپ کے بوتھے تک دیکھنے کو تیار نہیں آپ کے جھوٹ اور بکنے کی عادت نے اس ادارے کو بے توقیر کردیا ھے اب آپ لوگوں کو credibility صفر ھے"

مولاناطارق جمیل تو اپنی گفتگو پر معذرت کرچکے تاہم ان پر طنز کرنے والوں اور ان کےچاہنے والوں کے درمیان نوک جھونک مسلسل جاری ہے

مزید :

ڈیلی بائیٹس -