بیوروکریٹس کی نئے رولز کے تحت پروموشن سے متعلق کیس ،وفاق سے 7 مئی تک جواب طلب

بیوروکریٹس کی نئے رولز کے تحت پروموشن سے متعلق کیس ،وفاق سے 7 مئی تک جواب طلب
بیوروکریٹس کی نئے رولز کے تحت پروموشن سے متعلق کیس ،وفاق سے 7 مئی تک جواب طلب

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے بیوروکریٹس کی نئے رولز کے تحت پروموشن سے متعلق کیس میں وفاق سے 7 مئی تک جواب طلب کرلیا،عدالت نے قانونی سوالات پر وفاق کو معاونت کی ہدایت کر دی،عدالت نے پٹیشنرز کے وکلا کو مشترکا تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیوروکریٹس کی نئے رولز کے تحت پروموشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیاپروموشن کے لیے نئے رولز سپریم کورٹ فیصلوں کے مطابق فریم کیے گئے یا نہیں؟۔سنٹرل سلیکشن بورڈ ارکان کو 30 نمبرز دینے کا صوابدیدی اختیار کس اصول کے مطابق دیا گیا؟۔کیا اس صوابدیدی اختیار انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے؟ ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صوابدیدی اختیار کے تحت 30 نمبرز دینے میں بدنیتی یا بورڈ ارکان کی پسند و ناپسند تو شامل نہیں؟ ،مختلف ملازمین کا ایک جیسا آفس ریکارڈ ہو تو پروموشن میں کوئی امتیازی سلوک تو اختیار نہیں کیا گیا؟ ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ تقریبا تمام کیسز میں 30 صوابدیدی مارکس کا معاملہ ہے،وفاق کا سسٹم اتنا شفاف ہونا چاہیے کہ کوئی افسر پروموشن آرڈر سے متاثر نہ ہو،عدالت نے درخواستوں پر وفاق سے 7 مئی تک جواب طلب کرلیا،عدالت نے قانونی سوالات پر وفاق کو معاونت کی ہدایت کر دی،عدالت نے پٹیشنرز کے وکلا کو مشترکا تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -