کورونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے بعد جنوری میں چین نے چپکے سے کیا کام کیا؟ انتہائی افسوسناک انکشاف سامنے آگیا

کورونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے بعد جنوری میں چین نے چپکے سے کیا کام کیا؟ ...
کورونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے بعد جنوری میں چین نے چپکے سے کیا کام کیا؟ انتہائی افسوسناک انکشاف سامنے آگیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے فوری بعد، جب دنیا اس کے متعلق ابھی گوں مگوں کا شکار تھی کہ وباءکہاں تک پھیلے گی، چین نے چپکے سے ایسا کام کر ڈالا کہ خبر سامنے آئی تو دنیا دنگ رہ گئی۔ میل آن لائن کے مطابق کورونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے بعد 21جنوری کو چین نے چپکے سے معروف دوا ’Remdesivir‘ کا صنعتی پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے سند حق ایجاد کی درخواست دے دی تھی۔

یہ درخواست اسی ’ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی‘ کی طرف سے دی گئی تھی جس میں سالوں سے کورونا وائرسز پر تحقیقات کی جارہی ہیں اور مغربی دنیا کی طرف سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر اسی لیبارٹری میں کسی طرح لیک ہو کر کورونا وائرس شہری آبادی تک پہنچا اور انسانوں کو لاحق ہوا۔ رپورٹ کے مطابق جس روز چینی ماہرین نے تصدیق کی کہ ووہان میں پھیلنے والا کورونا وائرس انسانوں سے انسانوں کو لاحق ہو سکتا ہے، اس کے اگلے روز لیبارٹری کی انتظامیہ کی طرف سے اس دوا کی سند حق ایجاد کے لیے درخواست دے دی گئی تھی کیونکہ اس دوا کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ کورونا وائرس کا علاج ہو سکتی ہے اور چینی ماہرین نے سوچا کہ باقی دنیا سے پہلے وہ اس کی سند حق ایجاد حاصل کر لیں اور وباءپھیلنے کے بعد اس دوا کی فروخت سے پیسہ کمائیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد مغربی دنیامیں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ میں چین کے کردار کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ روز برطانیہ کی فارن افیئرز سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین ٹام ٹوگندھٹ نے بھی مطالبہ کر دیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور آزادانہ انکوائری کرائی جانی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ”ہمیں اس وباءکے پھیلنے سے سبق سیکھنا چاہیے، تاکہ عالمی برادری مستقبل میں ایسی وباءپھوٹنے کی صورت میں بہتر ردعمل کا مظاہرہ کر سکے۔“

مزید :

بین الاقوامی -