بال ٹمپرنگ قوانین میں مجوزہ ترمیم پر فاسٹ باﺅلرز بھی تقسیم ہو گئے، کس کا کیا کہنا ہے؟ آپ بھی جانئے

بال ٹمپرنگ قوانین میں مجوزہ ترمیم پر فاسٹ باﺅلرز بھی تقسیم ہو گئے، کس کا کیا ...
بال ٹمپرنگ قوانین میں مجوزہ ترمیم پر فاسٹ باﺅلرز بھی تقسیم ہو گئے، کس کا کیا کہنا ہے؟ آپ بھی جانئے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی وباءکورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے باعث کرکٹ کی دنیا میں بال ٹمپرنگ قوانین میں مجوزہ ترمیم کے معاملے پر فاسٹ باﺅلرز برادری بھی منقسم ہونے لگی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) چیف ایگزیکٹو کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں میڈیکل کمیٹی کی جانب سے گیند کو تھوک یا پسینے سے چمکانے کو بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے بھی وائرل پھیل سکتا ہے اس لئے کھیل دوبارہ شروع ہونے پر گیند پر تھوک یا پسینہ لگانے پر پابندی عائد ہونی چاہئے، اور اس صورت میں بیٹ اور بال میں توازن کیلئے گیند کو چمکانے کی خاطر بیرونی چیزوں سے مدد لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے، اب تک ایسا کرنا بال ٹمپرنگ کہلاتا ہے،اس حوالے سے فاسٹ باﺅلرز کی متضاد رائے سامنے آ رہی ہے۔

منوج پربھاکر نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ اگر گیند کو چمکانے پر ہی پابندی عائد ہوجائے گی تو فاسٹ باﺅلرز کیاکریں گے، اگر خطرناک ہونے کی وجہ سے تھوک اور پسینہ استعمال نہیں ہوسکتا تو پھر کوئی اور چیز ہونی چاہیے، میرے خیال میں اس کیلئے چکنائی کے بغیر تیل کا استعمال زیادہ مناسب رہے گا،اس سے قبل ویسلین اور منٹ کو بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے مگر وہ زیادہ بہتر کام نہیں کرتے۔اس کے ساتھ پربھاکر نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف بیرونی چیزوں سے گیند کو چمکانے سے وہ سوئنگ کرنا شروع نہیں ہوجاتی بلکہ اس کیلئے خاص صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر باﺅلر ایسا نہیں کرسکتا۔

دوسری جانب سابق بھارتی فاسٹ باﺅلر اورموجودہ کوچ ٹی اے شیکھر نے کہاکہ جب تک کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا تب تک میں توکھیل کے دوبارہ شروع ہونے کے حق میں نہیں ہوں، گیند پر تھوک یا پسینہ لگانا کرکٹر کی فطرت میں شامل ہوتا ہے، اگر میچ کے دوران کوئی غلطی سے ایسا کر بیٹھا تو کیا ہر بار گیند تبدیل کی جاتی رہے گی؟

مزید :

کھیل -