اسلامی ممالک سے توقعات

  اسلامی ممالک سے توقعات

  

وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم ممالک کے سفیروں کے اعزاز میں دیے گئے  افطار ڈنر سے اپنے خطاب میں مسلم اُمہ کے اتحاد و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا،اسلامی ممالک کو یورپی یونین کی طرز پر متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر سکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مسلم ممالک اپنی اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں،خاص طور پر وہ اسلامی ممالک جو غربت کا شکار ہیں،اُن کی مدد و اعانت کے لیے خوشحال اسلامی ممالک کو آگے آنا ہو گا، انہوں نے کہا اِس وقت پاکستان میں ایک نمائندہ اتحادی حکومت ہے،ہم اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط اور باہمی احترام و یگانگت کا تعلق چاہتے ہیں۔ترقی اور دنیائے عالم کے امن کی خاطر مسلمان ممالک کو عالمی برادری کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا، ہم دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے،تاہم ہمیں اپنے اندر اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دے کر ایک متحد طاقت کے طور ابھرنا ہے۔اس مقصد کے لیے او آئی سی کو مزید فعال، متحرک اور باعمل بنانے کی ضرورت ہے۔شہباز شریف نے اس موقع پر مسلم اُمہ کے سفیروں کی توجہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کی طرف بھی دلائی،انہوں نے کہا دونوں جگہ پر مسلمانوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسرائیل  اور بھارت مسلسل یہ عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔کشمیر کے حوالے سے تو سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں،جن میں کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا ہے،مگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔مسلم اُمہ کو اس کے لیے بھرپور آواز اٹھانی چاہیے۔شہباز شریف نے زور دے کر کہا کہ اسلامی ممالک میں کئی ملک خوشحال ہیں،اللہ نے انہیں وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ایسے ممالک غریب اسلامی ممالک کی غربت کو ختم کرنے میں اُن کی مدد کریں۔اسلامی ممالک میں خوشحالی آئے گی تو وہ ایک مضبوط قوت بن کر ابھریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جو باتیں کیں وہ آج کی دنیا کے تناظر میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کی جو کانفرنس ہوئی تھی،اُس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی مسلم اُمہ کے اتحاد پر زور دیا تھا۔انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی تھی کہ مسلمان ممالک کے درمیان چھوٹے چھوٹے اختلافات موجود ہیں،جن کی وجہ سے وہ متحد نہیں ہو پاتے۔ان اختلافات کو ختم کر کے مسلم اُمہ کے مفادات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔اب شہباز شریف نے بھی یہی بات کی ہے گویا پاکستان کا ہمیشہ سے یہ نظریہ رہا ہے کہ مسلمان ممالک کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔مسلمان ممالک میں اتحاد و اتفاق ہو تو وہ دنیا سے اپنی بات منوا سکتے ہیں،فلسطین اور مقبوضہ کشمیر جیسے مسائل اُس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک اسلامی ممالک اپنے آپ کو ایک مضبوط اتحاد میں نہیں ڈھال لیتے۔شہباز شریف نے تجویز پیش کی ہے کہ اسلامی ممالک کو یورپی یونین کی طرز پر اپنی ایک مضبوط تنظیم بنانی چاہیے تاکہ اسلامی دنیا کا ایک ایسا بلاک عمل میں آئے،جو اپنے فیصلے اپنے اجتماعی مفادات کو دیکھ کر کرے۔اِس وقت یورپی یونین دنیا کی ایک بڑی اقتصادی قوت ہے۔اس کے ارکان اپنے اجتماعی فیصلوں کے ذریعے یورپ کی اجتماعی خوشحالی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ او آئی سی میں خیالات کی حد تک ایک اتحاد نظر آتا ہے، لیکن اقتصادی شعبے میں مسلم اُمہ کے مشترکہ مفادات کے لیے اس تنظیم کو استعمال نہیں کیا جا سکا۔فلسطین اور مقبوضہ کشمیر دو ایسے مسئلے ہیں،جو کئی دہائیوں سے مسلم اُمہ کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں،دنیا کی اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی تنظیم ہونے کے باوجود او آئی سی ان مسائل کو حل کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔شہباز شریف کی یہ بات بھی درست ہے کہ مسلمان ممالک میں ایک طرف خوشحال ممالک ہیں اور دوسری طرف غریب ملک ہیں۔یورپی یونین نے اپنی تنظیم کا سب سے بڑا مقصد ہی اس بات کو قرار دیا ہے کہ پورے یورپ میں ترقی و خوشحالی لائی جائے،اس لیے یورپ میں آمدنی  کے لحاظ سے ممالک میں وہ تفریق نظر نہیں آتی جو اسلامی ممالک میں ہے۔امیر اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ  سرمایہ کاری کے لیے غریب اسلامی ممالک کا انتخاب کریں۔اس طرح  وہ غربت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پاکستان جیسے اسلامی ملک کو جو ہمیشہ مسلم اُمہ کے اتحاد و تحفظ کے لیے پیش پیش رہتا ہے،اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔پاکستان کے پاس بے پناہ افرادی قوت ہے،ہنر مندی اور تکنیکی علوم کے ماہرین کی بھی کوئی کمی نہیں،یہاں با وسیلہ اسلامی ممالک جدید صنعتی منصوبے لا کر جہاں ایک طرف اپنی دولت میں اضافہ کر سکتے ہیں وہاں پاکستان کی اقتصادی ترقی، مضبوطی و استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ افغانستان کو بھی اس وقت اقتصادی سطح پر بحالی کی اشد ضرورت ہے۔اسلامی ممالک کو اُس کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔گزشتہ او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس میں پاکستان نے افغانستان کے لیے آواز اٹھائی تھی،کیونکہ افغانستان کی صورتِ حال سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے پوری مسلم اُمہ کی  نمائندگی کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے سفیروں کو جو پیغام دیا وہ نہ صرف وقت کی ضرورت ہے،بلکہ مسلمان ممالک کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے حل کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔مسلمان ممالک دفاعی اعتبار سے بھی ایک دوسرے کی طاقت بن سکتے ہیں، جائزہ لینا چاہیے کہ نیٹو کی طرز پر ان کے درمیان کوئی معاہدہ کیسے عمل میں آ سکتا ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -