شہباز شریف بمقابلہ شہباز سپیڈ  

  شہباز شریف بمقابلہ شہباز سپیڈ  
  شہباز شریف بمقابلہ شہباز سپیڈ  

  

میاں شہباز شریف نے وزیراعظم بنتے ہی اپنی فطرت کے مطابق سپیڈ سے کام شروع کیا اور پہلے دن ہی آرڈر جاری کیا کہ پشاور موڑ سے اسلام آباد ایئر پورٹ تک میٹرو کو پانچ دنوں میں فعال کیا جائے۔حالانکہ یہی کام گزشتہ حکومت بھی کر سکتی تھی شاید ان کی ترجیحات میں عوام کو سہولت پہنچانا نہیں تھا اس لئے وہ یہ سعادت حاصل کرنے سے محروم رہے۔اسی لئے شہباز شریف کو شہباز سپیڈ کا نام دیا جاتاہے اور ذرائع بتاتے ہیں کہ شہباز شریف کے حکومت سنبھالنے پر سعودی عرب اور چین نے بھی خیر مقدم کیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب سے ہمارے تعلقات جو گزشتہ حکومت میں سر د مہری کی حد تک چلے گئے تھے (اس میں کافی حد تک قصور سابق وزیراعظم عمران خان کی نادانی کا بھی ہے جنہوں نے سعودی شہزادے سے ملنے والی گھڑی بازار میں فروخت کر کے دو دوست ممالک کے تعلقات کو عظیم نقصان پہنچایا)وہ دوبارہ سے فعال ہونے جا رہے ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک کی صورت میں جو معاشی انقلاب برپا ہونے جا رہا تھا،چار سالوں سے اس پر بھی کام نہ ہونے کے برابر ہوا اور پھر چین کے ساتھ بھی معاملات بگڑنا شروع ہوئے۔شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعلقات دوبارہ بحال ہوں گے اور خصوصا سی پیک پر کام تیزی سے شروع ہو گا کیوں کہ شہباز شریف ماضی میں جب وہ وزیراعلی پنجاب تھے تو چین کے ساتھ ان کی ورکنگ ریلیشن شپ اور پھر ان کے کام کی تیزر فتاری کی وجہ سے چین میں بھی انہیں شہباز سپیڈ کا نام بھی دیا گیا۔اگر مہنگائی اور معیشت پر بات کریں تو اس کی صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے کہ ہم شہباز حکومت سے بھاری بھرکم توقعات رکھ سکیں کہ یہ اس قلیل مد ت میں کوئی ایسے کام کر جائیں گے کہ جس سے ملکی معیشت پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی یا ملک میں سے مہنگائی کی لہر کم ہو جائے گی ایسا سر دست کچھ بھی نہیں ہو گا ہاں اگر شہباز شریف حکومت معیشت کو ٹریک پر ہی ڈال لے تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی تصور ہو گی۔ کیوں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں اور خزانے میں جو گیارہ ارب ڈالر پڑے ہیں ان میں سے بھی نو ارب ڈالر فریزنگ ہیں یعنی منجمد ہیں جو دوست ممالک کے مرہون منت ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں شہباز شریف ان مشکل حالات میں ملک کو کیسے ڈگر پر لے کر چلیں گے کہ معیشت کا پیہیہ دوڑناشروع ہو جائے۔ شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں پر تو کسی کو کوئی شک نہیں ہے کہ انہوں نے پنجاب میں جب وہ وزیراعلی کے منصب پر تھے تو میٹرو بس منصوبہ ہو یا اورنج لائن ٹرین منصوبہ سر پر کھڑے ہو کر بنائے ہیں، ایک سال کے اندر لاہور کی میٹرو ٹرین کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا اور اسی طرح اورنج ٹرین کو بھی مقررہ مدت سے پہلا بنوایا اور ان کے ساتھ کام کرنے والے بیورو کریٹ بھی اکثر تنگ ہوتے ہیں کہ یہ کیسا بندہ ہے جو نہ خود سوتا ہے اور نہ سونے دیتا ہے(شہباز شریف نے جب وزارت عظمی کا حلف لیا تو اگلے دن صبح آٹھ بجے وزیراعظم ہاؤس کے دفتر پہنچ گئے جس پر وہاں کام کرنے والے سٹاف کی بھی دوڑیں لگ گئیں)۔ لاہور کے باسیوں کو یاد ہو گا کہ جب ڈینگی نے پنجاب میں اپنے وار شروع کئے تو شہباز شریف نے دن رات ایک کر کے اس وباء کے دنوں میں شہریوں کو صحت کی سہولیات مہیا کرانے میں اہم کردار ادا کیااور کورونا کے دنوں میں بھی لوگوں نے شہباز شریف کو یاد کیا کہ اگر وہ وزارت اعلی کے منصب پر ہوتے تو شاید زیادہ بہتر انداز میں کام کرتے۔اس وقت ملک کو ضرورت ہے تو ایسے ہی شخص کی جو کام کرنے کی لگن رکھتا ہو اور بیوروکریسی سے کام نکلوا نے کی بھی جس میں صلاحیت ہو اور یہ دونوں خوبیاں شہباز شریف میں پائی جاتی ہیں۔ماضی میں شہباز شریف اس لئے کامیاب ہوئے کہ وفاق میں ن لیگ کی حکومت تھی تو پنجاب میں وہ یکسوئی کے ساتھ کام کرتے رہے۔اب چونکہ یہ ایک اتحادی حکومت ہے اور اتحادی حکومت کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں کبھی ایک ناراض ہوتو اس کو مناؤ تو دوسرا بدک جاتا ہے ان مسائل کے ساتھ حکومت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہی ہے۔اگر حمزہ شہباز پنجاب کی وزارت اعلی کا منصب سنبھال لیتے ہیں (تادم تحریر نو منتخب وزیراعلی حمزہ شہباز شریف نے حلف نہیں اٹھایا اور ہائیکورٹ میں حلف برداری کیلئے حمزہ شہباز نے دوربارہ درخواست بھی دائر کر دی ہے)تو پھر اس حکومت کے پاس ایک شاندار موقع ہو گا کہ وہ وفاق کے ساتھ ساتھ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پر بھی اس کا اپنا وزیراعلی ہو گا اور کام کرنے میں آسانی رہے گی۔ حمزہ شہباز شریف کے وزیراعلی پنجاب بننے پرتنقید کی جا رہی ہے(عثمان بزدار سے تو حمزہ شہباز بہر صورت ایک بہتر متبادل ہیں اور ہوں گے) کہ باپ وزیراعظم اور بیٹا وزارت اعلی پر قابض ہو گیا ہے تو میرے خیال یہ شہباز شریف کیلئے یہ آئیڈیل صورت حال بھی ہے کہ اپنی پالیسیوں کو منوانے یا ان پر عمل در آمد کرانے کیلئے پنجاب میں ان کے پاس ایک سپورٹ موجود رہے گی جس کا فائدہ کسی نہ کسی سطح پر عوام کوضرور پہنچے گا۔باقی پھر وہی بات ہے کہ وقت کم اورمقابلہ سخت ہے دیکھنا ہو گا کہ شہباز شریف اس قلیل مدت میں اپنی تیز رفتاری کو بروئے کار لاتے ہوئے شہباز سپیڈ کا بھرم برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -