صوبہ ایک وزیراعلیٰ دو

  صوبہ ایک وزیراعلیٰ دو
  صوبہ ایک وزیراعلیٰ دو

  

 یہ نظارہ بھی چشمِ فلک نے شاید پہلی بار دیکھا ہے کہ پنجاب میں بیک وقت دو وزرائے اعلیٰ موجود ہیں۔ ایک عثمان بزدار ہیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے ہیں اور دوسرے حمزہ شہباز ہیں جو اچکن پہنے وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے ک لئے تیار ہیں۔ جب عثمان بزدار کے ابتدائی دن تھے تو ان کے خلاف بہت آوازیں اٹھتی تھیں، مگر وہ ان کی پروا کئے بغیر اپنے کام میں مگن رہتے تھے۔ جب بھی کوئی مشکل گھڑی آتی کپتان ان کی پیٹھ تھپتھپانے پہنچ جاتے، اپنے اس وسیم اکرم پلس کے لئے انہوں نے ہمیشہ اپنی حمایت کا پرچم بلند کئے رکھا۔ اس زمانے میں کہا جاتا تھا عثمان بزدار کا کلہ بہت مضبوط ہے، مگر اب استعفا دینے کے باوجود وہ وزیراعلیٰ چلے آ رہے ہیں تو واقعی لگ رہا ہے کہ قدرت نے ان کا کلہ مضبوط رکھا ہوا ہے۔ کپتان نے اپنے پچھتاوؤں میں ایک پچھتاوا یہ بھی گنوایا ہے کہ انہوں نے عثمان بزدار کو ہٹانے کی غلطی کی۔ اپنی حکومت بچانے اور چودھری برادران کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انہیں عثمان بزدار کو قربان کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے جانے سے پہلے عثمان بزدار کو ہٹا دیا تھا، لیکن تماشائے قدرت دیکھئے کہ عثمان بزدار آج بھی اپنی کرسی پر وزیراعلیٰ آفس میں موجود ہے، کل جب میں نے ان کی ایک تصویر دیکھی جس میں وہ صوبے کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو سامنے بٹھائے حکومتی معاملات پر احکامات جاری کر رہے ہیں تو مجھے لگا عثمان بزدار کے جانے اور حمزہ شہباز کے آنے کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وہ وزرائے اعلیٰ کی یہ گیم ابھی نجانے کب تک چلے، کیونکہ روزانہ کوئی نئی کہانی سامنے آ جاتی ہے۔

جب انہونیاں ہونے لگیں تو پھر ان کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ پنجاب کی حکومت گرانے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے بڑی ہوشیاری سے چال چلی تھی۔ کہیں عثمان بزدار اسمبلی توڑنے کی ایڈوائز نہ دے دیں، ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی چونکہ خود وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار تھے، اس لئے ان سے کسی اچھائی کی توقع اپوزیشن کو نہیں تھی۔ان کی جگہ ڈپٹی سپیکر کو وزیراعلیٰ کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی، لیکن یہ بھول گئے کہ سپیکر کے انتظامی اختیارات ابھی تک چودھری پرویز الٰہی کے پاس ہیں، انہوں نے اسمبلی کو تالے لگوا دیئے، دیواروں پر خارزار تاریں چن دیں اور اسمبلی کا اجلاس 16اپریل تک ملتوی کر دیا۔ ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پہلے بلانے کی کوشش کی، مگر وہ اسمبلی کے دروازے نہ کھلوا سکے۔ مجبوراً اپوزیشن کو ہوٹل میں اجلاس کرکے اپنی اکثریت کو ظاہر کرنا پڑا۔ اس دوران عدالتی جنگ ہوئی تو لاہور ہائی کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو الیکشن کرانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ پھر 16اپریل کا دن آیا اور سب نے دیکھا کہ اس دن پنجاب اسمبلی کے اندر کیا ہوا، جہاں ایک پولیس والا داخل نہیں ہو سکتا تھا، وہاں سینکڑوں پولیس والے داخل ہو گئے، اچھی خاصی مار دھاڑ کے بعد وزیراعلیٰ کا یکطرفہ انتخاب ہوا، حکومتی اور اتحادی واک آؤٹ کر گئے اور حمزہ شہباز کو پی ٹی آئی کے منحرفین سمیت 197ووٹ مل گئے۔انتخاب کے بعد انہوں نے اسمبلی میں دھواں دار تقریر کی۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے عزائم کا اظہار کیا۔ انہیں امید تھی کہ اگلے دن وہ حلف اٹھا کر صوبے کے پردھان منتری بن جائیں گے، مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ وزارتِ اعلیٰ ان کے کتنے قریب آ کر کتنی دور چلی گئی ہے۔ یہاں مولا جٹ کے طور پر گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کردار شروع ہوتا ہے۔ وہ حلف لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انتخاب ہی متنازعہ ہوا ہے اس لئے وہ حمزہ شہباز سے حلف نہیں لے سکتے۔ سیکرٹری پنجاب اسمبلی اپنی رپورٹ میں ایسا بہت سا مواد فراہم کر دیتے ہیں جو حلف نہ لینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔

بال صدر مملکت عارف علوی کی کورٹ میں چلی جاتی ہے۔ اس دوران وفاقی حکومت عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کا حکم جاری کر دیتی ہے جسے گورنر پنجاب تسلیم نہیں کرتے کیونکہ گورنر کو ہٹانے کا اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل ہے۔ صدر حکومت کی سمری روک لیتے ہیں اور عمر سرفراز چیمہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہیں۔ معاملہ ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ میں جاتا ہے۔ عدالت سماعت کے بعد یہ حکم جاری کرتی ہے کہ صدر مملکت گورنر کے علاوہ کوئی دوسرا نامزد کریں جو نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لے۔ اس حکم کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، درمیان میں خبر آتی ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو حلف لینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے لیکن وقت مقررہ پر سب بیٹھے رہ جاتے ہیں اور کوئی حلف لینے نہیں آتا۔ اس دوران جس شخص کا سکہ چلتا رہتا ہے وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہیں۔ سب کو جلدی ہو سکتی ہے، تاہم انہیں کوئی جلدی نہیں۔ وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں صحیح معنوں میں اپنے دشمنوں کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔حمزہ شہباز کی حالت اس دولہا جیسی ہے جس کا نکاح تو ہو جاتا ہے رخصتی نہیں ہوتی۔ وہ تکنیکی طور پر وزیر اعلیٰ ہیں مگر وزیر اعلیٰ کا پروٹوکول اور اختیار ان کے پاس موجود نہیں اس کے وکلاء عدالتوں کے پھیرے لگا کے تھک گئے ہیں، مگر صدر مملکت ہیں کہ راضی ہونے کو تیار نہیں۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ گورنر نے 6 صفحات کی صدرِ مملکت کو جو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کی بابت رپورٹ بھیجی ہے اس میں انتخاب کو خلاف ضابطہ، یکطرفہ اور غیر آئینی قرار دے کر مسترد کرنے کی سفارش کی ہے۔

اب مسلم لیگ ن کے وکلاء اور حامی آئے روز کہتے ہیں کہ اتنے دن گزر گئے پنجاب وزیر اعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے۔ اس پر عثمان بزدار ضرور ہنستے ہوں گے کہ انہیں میں نظر نہیں آتا جو آج بھی پوری آب و تاب سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر برا جمان ہے۔ صوبے کی بیورو کریسی ویسے ہی چل رہی ہے جیسے پہلے چل رہی تھی نہ پہلے کوئی اسے پوچھنے والا تھا اور نہ اب ہے۔ کپتان اس بات پر خوش ہے کہ باپ کو وزیر اعظم بنانے والے بیٹے کو وزیر اعلیٰ نہیں بنا پا رہے۔ جس کا ایمان مضبوط ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ جتنے دن عثمان بزدار کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں دانہ پانی لکھا ہے، اس سے پہلے انہیں کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ اور جتنے دن تک حمزہ شہباز نے ماڈل ٹاؤن میں رہنا انہیں یہاں کوئی لا نہیں سکتا۔ اس سارے کھیل سے کئی باتیں عیاں ہوئی ہیں۔صوبے میں دو وزیر اعلیٰ بھی ہو سکتے ہیں ایک ایوان میں وزیراعلیٰ ہیں اور ایک انتظار گاہ میں، دوسرا وزیراعلیٰ نہ بھی ہو تو صوبہ چلتا رہتا ہے کیونکہ صوبے کو بیورو کریسی چلاتی ہے۔ گیارہ کروڑ آبادی کے صوبے کو چار وزیر اعلیٰ بھی چلائیں تو کم ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں صوبہ جنوبی پنجاب بنا دیا جائے تاکہ ایسی صورت حال میں ایک کو ملتان اور دوسرے کو لاہور میں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -