تین برس گزر گئے،شملہ پہاڑی چوک کی توسیع کا منصوبہ شروع نہ ہوسکا

  تین برس گزر گئے،شملہ پہاڑی چوک کی توسیع کا منصوبہ شروع نہ ہوسکا

  

     لاہور(اپنے نمائندے سے)صوبائی دارالحکومت کے اہم چوک شملہ پہاڑی کی توسیع و ترتیب نو کا منصوبہ التواء کا شکار ہو گیا۔شہر کی مصروف ترین سڑکوں اور گنجان علاقوں کو ملانے والے اس چوک کی ری ڈیزائنگ کا منصوبہ تین سال سے آغاز کا منتظر ہے۔ایل ڈی اے کی جانب سے بھی منصوبہ کو غیر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔شملہ پہاڑی چوک کی ترتیب نو و توسیع کے منصوبہ پر لاگت تخمینہ صرف دس کروڑ روپے ہے جبکہ جگہ ایکوائر کرنے کا ٹاسک بھی پورا کرنا ہے۔تین رویہ سڑک سے ایجرٹن روڈ،ڈیوس روڈ،کوئین میری کالج روڈ، ایمپرس روڈ، ایبٹ روڈ بڑی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ مال روڈ، گڑھی شاہو،کینال روڈ، سندرداس روڈ، علامہ اقبال روڈ، ریلوے اسٹیشن،بادامی باغ،میکلوڈ روڈ اور شمالی لاہور آنے جانے والے لاکھوں شہریوں کو اس منصوبہ سے وقت کی بچت اور فائدہ ہو گا۔ٹیپا کی جانب سے شملہ پہاڑی کی ری ڈیزائنگ کے منصوبہ کو اہم قرار دیا جا چکا ہے جس کو ٹریفک کی روانی کے لئے ناگزیر قرار دیا جا چکا ہے۔اس کے لئے لاہور پریس کلب اور ملحقہ ایریا کا سروے بھی کئی سال قبل مکمل ہو چکا ہے۔لیکن منصوبہ پر عملی طور پر کام شروع نہیں کیا گیا۔مسلسل تاخیر کے باعث تخمینہ لاگت میں بھی اضافہ کا خدشہ ہے۔ٹریفک ماہرین کے مطابق شملہ پہاڑی کے ایل ڈی اے اس منصوبہ سے کوئین میری کالج اور ملحقہ تعلیمی اداروں کے اوقات کار کے دوران ٹریفک کا دیرینہ مسئلہ بھی کافی حد تک حل ہو جائے گا۔ شہری حلقوں نے روزنامہ پاکستان  کی وساطت سے ڈی جی ایل ڈی اے سے منصوبہ ترجیح بنیاد پر مکمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -