عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے یو م نفاذ امتناع قادیانیت ایکٹ منایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے یو م نفاذ امتناع قادیانیت ایکٹ منایا

  

لاہور( نمائندہ خصوصی)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ملک بھر میں یوم نفاذ امتناع قادیانیت ایکٹ منایا گیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں نے مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26اپریل 1984ء ہمار ی سلامی اورملکی تاریخ کاوہ عظیم روشن ترین دن ہے کہ جس دن منکرین ختم نبوت قادیانی فتنہ کو اسلامی شعائر استعمال کرنے کوقانونی جرم قرار دیکرپابندی عائد کی گئی اور آئین پاکستان میں 298-Cکا اضافہ کیا اس شق کے تحت کوئی بھی قادیانی اسلامی شعائر استعمال نہیں کرسکتا اور اگر اسکی خلاف ورزی کرے گا تو قانون کی اس شق کے مطابق وہ سزا کا مستحق ہوگا۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم نشرو اشاعت مولانا عزیز الرحمن ثانی،مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم،قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا قاری علیم الدین شاکر، پیر میاں رضوان نفیس، مولانا حافظ محمداشرف گجر،مو لانا قاری عبدالعزیز، مولانا خالد محمود، مولا نا سعید وقار، قاری ظہورالحق، مولانا ظہیراحمد قمر، مولانا عبدالشکو ر یوسف و دیگر علماء  نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ حکومت امتناع قادیانیت ایکٹ پر عملدرآمد کوہر صورت یقینی بنائے۔

کیونکہ وطن عزیزمیں منکرین ختم نبوت کی اسلام و آئین پاکستان مخالف سرگرمیاں خطرناک حدتک بڑھ چکی ہیں،قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنی جعل سازیوں سے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ زنی کر رہے ہیں اور وہ آئینی پابندیوں کو روندتے ہوئے اپنی ارتدادی ناپاک سر گرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت قانون اور امتناع قادیانیت آرڈینینس کا تحفظ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ہر جگہ پر ملکی امیج کو خراب کرنے کے لیے اپنے مذموم حربے اپنے بیرونی آقاؤں کے کہنے اور انکے گٹھ جوڑ سے استعمال کرتے رہتے ہیں اور ملک عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کوئی موقعہ اپنے ہاتھ سے خالی نہیں جانے دیتے۔ قادیانیوں کی چالبازیوں اور ان کے مکر و فریب سے بچنا یہ تمام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔ ناموس رسالت قانون اور امتناع قادیانیت آرڈینینس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔علماء  نے کہا کہ کہ آذربائیجان میں سیالکوٹ کا رہائشی بلال حئی نامی شخص جوکہ ایک سکہ بندقادیانی ہے اسکو سفیر مقرر کیا گیا ہے یہ شخص قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کرنے کے ساتھ ساتھ قادیانی لٹریچر تقسیم کرنا اسکا دن رات مشغلہ بن چکا ہے اور کئی مسلمان سٹوڈنٹس کو قایانی بنانے کی کوشش کی ہے اور اس نے آذربائیجان میں پاکستانی سفارت خانہ کو قادیانیت کی تبلیغ کے اڈہ میں تبدیل کیا ہوا ہے جوکہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہم اس پر بھرپور احتجاج کرتے ہیں۔ہمارا موجودہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ بلال حئی نامی قادیانی سفیر کو فوری طورپر عہدہ سے سے ہٹایا جائے بلکہ تمام قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کیا جا  ئے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -