وزیراعظم شہبازشریف کے لئے پی پی اور ایم کیو ایم پاور سٹیرنگ، پریشانی کا سبب ہوگی 

وزیراعظم شہبازشریف کے لئے پی پی اور ایم کیو ایم پاور سٹیرنگ، پریشانی کا سبب ...

  

وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت ختم، لیٹر گیٹ اب بھی زیر بحث ہے، سوشل میڈیا اس حوالے سے بہت سرگرم ہے

سندھ کا گورنر کون؟ سابق گورنر عشرت العباد ناکام، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی پہلی ترجیح بن گئے

کراچی سیاسی ڈائری 

تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت کے خاتمہ کے بعد بھی لیٹر گیٹ پر سیاسی تبصرے جاری ہیں۔پوری قوم سوشل میڈیا پر سازش اور مداخلت کے الفاظ سے الجھاؤ کا شکار ہے۔اس دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سازش امریکہ میں نہیں بلکہ بلاول ہاؤس میں ہوئی ہے۔سیاسیات کے طالب علم کو یہ سن کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اپوزیشن ہی وہ پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں سے سے حزب اقتدار کے خلاف کھلم کھلا جدوجہد کی جاسکتی ہے۔اس جدوجہد میں اگر سیاسی اخلاقیات کو مدنظر رکھا جائے تو وہ سیاست کہلاتی ہے اگر درپردہ ساز باز کی جائے تو اسے سازش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اگربلاول بھٹو زرداری نے یہ طنزاً کہا ہے تو اور بات ہے لیکن سیاسی جماعت کو اپنی کوشش کو جدوجہد سے ہی تعبیر کرنا چاہیے۔

موجودہ حکومت میں وزیراعظم شہباز شریف کے لیے دو بڑے چیلنجز ہیں جس میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کا فارمولا طے کرنا ہے۔ایم کیو ایم کے مطالبات پیپلزپارٹی کے لیے چیلنج بھی ہیں کیونکہ سندھ میں ایم کیو ایم نے ایک طویل فہرست بنا رکھی ہے،جس میں گورنر سندھ کی نشست سب سے اہم ہے۔ایم کیو ایم کی شخصیات کا جائزہ لیا جائے تواس وقت گورنر سندھ کے لیے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ہی سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے پہلے وزارت چھوڑتے وقت کہا تھا کہ وہ پارٹی کو منظم کرنا چاہتے ہیں موجودہ حالات میں دیکھا جائے تو خالد مقبول صدیقی، میاں نواز شریف کی 1997کی حکومت میں وفاقی وزیررہ چکے ہیں یوں مسلم لیگ (ن)کی قیادت سے ان کا تعلق پرانا ہے۔وہ ایم کیو ایم کے کارکنوں سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں کیونکہ 1989میں ایم کیو ایم کی اسٹوڈنٹس کی تنظیم اے پی ایم ایس او کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔1990ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔سابق گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان گزشتہ ایک سال سے خود کو تمام دھڑوں کے لیے قابل قبول بنانے کی بہت کوشش کرچکے ہیں لیکن ان کو کامیابی نہیں ملی۔موجودہ حالات میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے لیے سب سے سے موزوں اور قابل قبول شخصیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ہی ہیں۔

میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں شراکت اقتدار میں پیپلزپارٹی کے تحفظات کے حوالے سے تھیں۔عمران خان حکومت کے خاتمے کا منصوبہ اگر واقعی بلاول ہاؤس سے شروع ہوا تو پیپلزپارٹی کی قیادت نے دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے وعدے کیے ہوں گے اب ان پر عملدرآمد کے لیے دونوں پارٹیوں کے سربراہ معاملات طے کررہے تھے۔باخبر ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی آئندہ الیکشن میں پنجاب کی نشستوں پر مسلم لیگ (ن)سے زیادہ سے زیادہ تعاون کی خواہشمند ہے۔صوبہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن اس وقت انتہائی کمزور ہے۔وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے لیکن موجودہ حالات میں عمران خان کی مقبولیت کا گراف بھی بلندیوں کو چھورہا ہے۔عمران خان سابق وزیراعظم کا سیاسی بیانیہ پنجاب میں زیادہ مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔

سندھ حکومت نے اپنی کابینہ میں تبدیلی کرتے ہوئے اپنے دیرینہ ساتھی شرجیل انعام میمن کو پھر سے صوبائی کابینہ کا حصہ بنایا ہے۔ان کو سعید غنی کی جگہ صوبائی وزیر اطلاعات کا قلم دان سونپ دیا گیا ہے۔محکمہ اطلاعات کے کئی افسر اور شرجیل انعام میمن بھی نیب سندھ میں تحقیقات کی زد میں رہے اور پھر ان کو جیل بھی جانا پڑا۔اگرچہ وہ کافہ عرصہ پہلے ضمانت پر رہا کیے جاچکے تھے لیکن حکومت نے کوئی باقاعدہ ذمہ داری نہیں دی تھی۔پیپلزپارٹی کے اہم راہنما کی حیثیت سے ان کی پوزیشن ہمیشہ مستحکم ہی دکھائی دی ہے۔اب ان کو میڈیا کی ذمہ داری مل گئی ہے۔توقع کی جاسکتی ہے کہ محکمہ اطلاعات سندھ جو کافی عرصہ سے تذبذب کا شکار تھا اور افسروں کے متعدد تبادلوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا اب اس میں ٹھہراؤ اور استحکام آئے گا۔میڈیا کی ترقی و ترویج کے حوالے سے صوبائی حکومت سندھ اہم اقدامات کرے گی۔

پیپلزپارٹی کے لیے یہ بھی ایک تاریخی مرحلہ ہوگا جب پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وفاقی وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالیں گے۔بین الاقوامی تعلقات بھٹو خاندان کا پسندیدہ میدان رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو بھی اسی میدان کے شاہ سوار تسلیم کیے جاتے تھے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو نے اپنے لئے اس وزارت کو قبول کرنے کا سوچا ہوگا۔ اگرچہ اس میں بہت سے چیلنج ہیں لیکن ان کی راہنمائی کے لیے پیپلزپارٹی میں بہت سینئر راہنما موجود ہیں۔مسلم لیگ (ن)کے دیرینہ ساتھی اور نواز شریف کے دوست طارق طارق فاطمی سے یہ شعبہ واپس اسی لیے لیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو فری ہینڈ دیا جائے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی تو ہوگئی ہے لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کے امکانات ہیں۔اس کے ساتھ ہی عمران خان اسلام آباد میں بڑے احتجاج کے لیے کال دینے کا اعلان کرچکے ہیں۔اس لحاظ سے عید کے بعد پاکستان میں سیاسی طور پر حالات انتہائی کشیدہ ہوسکتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -