لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا، گندم کی کٹائی، کپاس کی بوائی مشکل میں

لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا، گندم کی کٹائی، کپاس کی بوائی مشکل میں

  

، بیانیہ پراناہے، عمران  حکومت نے تو توجہ نہ دی

ملکی سیاست الجھ گئی، تقسیم بہت ہو گئی، لوگ اپنے اپنے لیڈر کو ”دیوتا“ ماننے لگے

مخدوم شاہ محمود قریشی کی ملتان آمد اور استقبال، سیاست کا نیا رخ بن رہا ہے، مخدوم جاوید ہاشمی علیل ہو گئے،دل کی سرجری کا مشورہ

ملتان  سیشوکت اشفاق 

ملک میں اس وقت کیا ہو رہا ہے کچھ واضع نہیں مگر سیاست دانوں اور اداروں کی کردار کشی ایک منظم طریقے سے جاری ہے، شخصیت سازی کا ایک ایسا پروپیگنڈہ ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کا شکار ہونے والے پریشان ہونے کی بجائے انتہائی خوش اور اسے اپنی سیاسی و سماجی کامیابی سے تعبیر کر رہے ہیں، لیکن انہیں معلوم نہیں اس جال میں وہ کس طرح سے پھنس چکے ہیں‘ عام آدمی کاالمیہ، مگر یہ ہے کہ وہ آئین اور قانون سے نابلد ہونے کے باوجود اپنے ہم عصروں سے ایسی بحث کے دروازے کھولتے ہیں کہ جن کے بارے میں بات ہو وہ بھی شرمندہ ہو جائیں۔ ہمسایہ ملک کی طرح یہاں بھی سیاسی اکابرین کو ”دیوتا“ کا درجہ حاصل ہو رہا ہے جو ایک مہذب معاشرے کے لئے، مگر ”شر“ کا پہلو لا رہا ہے عام آدمی اپنے اپنے ”دیوتا“ کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں پارٹی یا ان کی قیادت چہرہ تو کیا نام یا شہر تک نہیں جانتی اور نہ ہی ان سیاسی جماعتوں کے منشور پر آج تک عمل درآمد ہو سکا ہے پیپلز پارٹی پہلی سیاسی جماعت ہے، جس نے ”عوامی منشور“ دینے کا دعویٰ کیا لیکن تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سمجھ آ جائے گی کہ عوامی منشور میں عوام کے ساتھ کیا کیا گیا مسلم لیگ کی بات الگ کہ نکاح کرنے والے نے ”نکاح نامہ“ میں اپنی من پسند شرائط تحریر کر لیں تو ایسے میں تحریک انصاف کیوں پیچھے رہتی اسے بھی انصاف کے حصول کے لئے بنائی جانے والی تحریک کو سیاسی جماعت میں تبدیل کر کے کپتان نے خود ہی اس کی قیادت اور سر پرستی سنبھال لی اس کا منشور ترتیب دینے والوں میں بڑے نام شامل اور کچھ بڑے دعویٰ دار ہیں یہ ایک ایسا منشور ہے جس پر کم از کم جنوبی ایشیاء کے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عملدرآمد تو تقریباً نا ممکن ہی ہے اور ایسا ہوا بھی  سچائی سامنے آئی کہ ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصہ پر محیط حکومت میں جو ریکارڈ مرتب ہوئے وہ خود تاریخی ہیں اور اب حالت یہ ہے کہ کمال سیاسی انداز میں عام آدمی کو الجھا دیا ہے کہ وہ یہ سوچ بھی نہ سکے جناب والا آپ نے تو تبدیلی کا وعدہ کیا تھا پھر تمام چور لٹیرے آزاد اور اس دور اقتدار میں یہ منصب پانے والے بہت ہی خوش ہیں اب عام آدمی یہ باتیں سمجھ پائے گا کہ نہیں اس کا اندازہ مشکل ہے کہ آنے والے وقت میں مشکلات میں اضافے کی پیشین گوئی تو ملک میں جاری لوڈشیڈنگ میں اضافے کی بھی ہے کہ پانچ سے ساڑھے سات ہزار میگا واٹ شارٹ فال اب تک ہو چکا جس سے شہروں میں تقریباً 8اور دیہاتوں میں 12سے 16گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ بڑی ڈھٹائی سے جاری ہے بیانیہ وہی ہے جو ان سے پہلے والے حکمرانوں کا تھا اور ان سے پہلے والے حکمرانوں کا بیانیہ وہی تھا کہ جو اس سے پہلے والے حکمرانوں کا تھا، یعنی یہ گھن چکر ہے، جس میں نقصان قومی معیشت اور عام آدمی کا ہو رہا ہے لیکن یہ حکمران قیمت اور پوائنٹ سکورنگ سے باز نہیں آتے۔

حقیقت یہ ہے کہ پچھلی سے پچھلی حکومت نے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور بند یونٹس کو کمشنڈکیا اس وقت پاور سیکٹر کا سرکلرڈیبٹ تقریباً 400ارب تک رہا، لیکن ایک وقت آیا کہ یہ برابر ہو گیا،لیکن اس کے بعد آنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے اس اہم شعبے کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ بوجوہ واپڈا کی ملکیت بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو بتدریج بند کر دیا گیا تقریباً پانچ ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی یہ کرونا وباء کے عین عروج میں ہوا جب انڈسٹری اور کاروباری ادارے تقریباً بند ہو رہے تھے جب کورونا کم ہونا شروع ہوا اور ملک کے اندر غیر ملکی آرڈرز کی تکمیل کے لئے انڈسٹری چل پڑی تو حکومت اس وقت اندازہ کرنے میں نا کام رہی کہ انہیں اپنے سرکاری یونٹس بھی فوری طور پر چلانے چاہیں، مگر اس پر پرائیویٹ سیکٹر نے اس وقت سبقت حاصل کر لی اور دھڑا دھڑ بجلی پیدا کر کے واپڈا کے سسٹم میں ڈالتے رہے، لیکن حکومت بوجہ ادائیگی کرنے میں نا کام رہی جس کی وجہ سے ایک طرف تو پاور سرکلر ڈیبٹ میں تاریخی اض افہ ہوا جو 2400ارب سے بڑھ گیا تو دوسری طرح ملک میں لوڈ شیڈنگ کا عفریب ایک مرتبہ پھر ملک کو ایسے وقت میں لپیٹ میں لے چکاجب گندم کی فصل برداشت ہو رہی ہے اور دوسری طرف کپاس کی بوائی کی تیاری ہو رہی ہے اب دیہات میں بجلی نہیں تو ٹیوب ویل نہیں چلے گا اور ڈیزل نہیں تو تھریشر نہیں چلے گا ایسے گندم کھلے آسمان میں سخت گرمی میں وزن کم اور دانہ سکڑ جائے گا جو گندم کے حصول کا ٹارگٹ پورا کرنے میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ 

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ حکومت ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ملتان پہنچے تو مقامی سابق ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے ان کا استقبال کیا تاہم متعدد ارکان اسمبلی کی غیر حاضری ملتان کی سیاست میں نئی سمت کا اشارہ دے رہی ہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں سابق چیف وہپ ملک عامر ڈوگر بھی اپنا بھر پور استقبال کرانے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف سابق رکن قومی اسمبلی اور عوامی راج پارٹی کے چیئرمین جمشید دستی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر ملک کی اعلیٰ عدلیہ اداروں اور سیاستدانوں سمیت تمام اداروں پر انتہائی سخت اور نازیبا الفاظ میں تنقید کی جو ایک جمہوری رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا اختلاف رائے حق ہے لیکن الفاظ کا چناؤ تعلیم اور اخلاق کی نشاندہی کرتا ہے لگتا ہے کہ یہ زبان جمشید دستی کی اپنی نہیں تھی۔

سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی شدید علیل ہو گئے ہیں چند دن قبل انہوں نے ہشاش بشاش انداز میں پریس کانفرنس کی لیکن اب وہ علیل ہیں قبل ازیں بھی ان پر فالج کا اٹیک ہوا تھا اور ابھی تک زیر علاج ہیں اب اطلاع یہ ہے کہ ان کے دل کی شریانیں بند ہیں، جس کے لئے ڈاکٹرز نے سرجری کا مشورہ دیا ہے۔

٭٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -