صدر مملکت عارف علوی بھی جماعتی اثرات کے تحت انتقال اقتدار کے حوالے سے مناسب رویہ اختیار کرنے سے قاصر!

صدر مملکت عارف علوی بھی جماعتی اثرات کے تحت انتقال اقتدار کے حوالے سے مناسب ...

  

عمران خان اور ان کے ساتھی، حکومت کرنے کا حق صرف اپنا ہی سمجھتے ہیں 

فارن فنڈنگ کیس،ممکنہ فیصلہ،اثرات تحریک کے خلاف،توشہ خانہ اور  فرح گجر، باز گشت

سیاسی ڈائری اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت کا موسم گرم ہونے لگا ہے لگتا ہے کہ رواں ہفتہ کے اختتام تک مرکری 40 ڈگری سنٹی گریڈ کو چھو لے گا۔ اگرچہ اسلام آباد میں موسم بہار دیدنی ہوتا ہے لیکن اس بار موسم بہار کا حسن سیاسی اتھل پتھل نے چھین لیا۔ وفاقی دارالحکوت میں انتقال اقتدار کے آئینی طریقہ کار اور جمہوری روایات کو پامال کرنے کی کوشش نظر آئی لگتا تھا کہ جمہوریت کی گاڑی خدانخواستہ کہیں پٹڑی سے نہ اتر جائے لیکن بالآخر اعلی عدلیہ کی مداخلت سے وفاقی دارالحکومت میں انتقال اقتدار کے مراحل طے ہوئے جبکہ حکومتی اتحاد کے حلقوں کے مطابق ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار سربراہ ریاست صدر مملکت اپنی سیاسی وابستگی کی بدولت نہ صرف جانبداربلکہ انتقال اقتدار کے حوالے سے وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے نظر آئے جبکہ صدر مملکت کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں بھی اقتدار کی تبدیلی کے عمل میں مبینہ طور پر متنازعہ کردار ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جس سے ملک میں سیاسی بے یقینی اور آئینی بحران کے سائے نظر آ رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سابق وزیر اعظم عمران خان کسی طور پر بھی اقتدار کی تبدیلی کے عمل کو ماننے کے لئے تیار نہیں پاکستان تحریک انصاف کی پوری قیادت جمہوریت میں عددی اکثریت کے فارمولے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے کپتان عمران خان کے پیرو کار نہ صرف جلسوں میں بلکہ سوشل میڈیا کے مختلف فورمز پر خوب ردعمل دے رہے ہیں اور ملک کے اعلیٰ ترین اداروں اور ان کے سربراہان پر تنقید کر رہے ہیں ملک میں جمہوریت ابھی ارتقائی مراحل میں ہے کیونکہ جمہوریت کا حسن در حقیقت اس کے انتقال اقتدار کے طریقہ کار میں ہی پنہاں ہے۔پرامن اور خوش اسلوبی سے انتقال اقتدار کا عمل ہی جمہوریت کی روح  مانی جاتی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور ان کے پرستار اپنے آپ کو ہی درست مانتے اس بات پر یقین کامل رکھتے ہیں کہ حکومت کا حق صرف انہی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے طول و عرض کے بڑے بڑے شہروں میں شو آف پاور کرتے ہوئے موجودہ نئے جمہوری سیٹ اپ کے ساتھ سر ٹکرانے کی ٹھان لی ہے۔ پی ٹی آئی نے ملک کے قومی اداروں کے خلاف اس قدر بابا کاری مچائی کہفارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی جانب سے ایک اہم اعلامیہ جاری کیا گیا بلکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خود ریٹائر فوجی افسران اور بعض دیگر اہم فورمز پر یہ واضح کر رہے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف داخلی طور پر کسی سازش کے شواہد سامنے نہیں آئے اور سفارتی کیبل میں جس حد تک امریکہ کے غیر سفارتی رویہ کا ذکر ہوا اس کے مطابق بھرپور ایکشن کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کے اسلام آباد میں سربراہ کو دفتر خارجہ طلب کر کے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ یہی سفارتی آداب کے مطابق طریقہ اپنایا جانا ہے۔ تاہم امریکی اہلکار کی جانب سے واشنگٹن میں جو ناروا رویہ اپنایا گیا اس کا کوئی تانا بانا اس وقت کے اپوزیشن اتحاد سے ملتا ہے نہ اس کا پاکستان کی داخلی سیاست کے محرکات سے ہے۔

بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے قومی سلامی کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں اس سکینڈل کے مرکزی کردار امریکہ میں سابق سفیر ڈاکٹر اسد مجید کو بھی طلب کر کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم کے سامنے استفسار کیا گیا اور سارے ایشو پر سیر حاصل بحث کے بعد وہی نتیجہ اخذ ہوا جس کا پہلی سلامتی کونسل کے اعلامیہ میں ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کو بھی اپنی مرضی کا سازشی لباس پہنا دیا جس سے ملک میں جاری سیاسی کنفیوژن میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آیا، جبکہ اس کو بنیاد بنا کر کپتان نے اسلام آباد میں ایک دھرنے کی کال دی ہے جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف عید کے بعد ایک بھرپور احتجاجی مہم شروع کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک میں عام انتخابات کے مطالبہ کی راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت پر فارن فنڈنگ کیس کی تلوار لٹک رہی ہے۔ دارالحکومت میں عام تاثر یہی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس فارن فنڈنگ کے حوالے سے اتنے شواہد آ گئے ہیں کہ فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف آئے گا۔ اب دیکھنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ملک کی سیاسی صورتحال پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔ دوسری جانب توشہ خانہ کے تحائف اور فرح گجر کے حوالے سے نت نئی داستانیں سامنے آ رہی ہیں معلوم نہیں اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا افسانہ ہے۔ تاہم وزیر اعظم شہباز شریف ملک میں جاری گدلی سیاست سے بے نیاز ہو کر اسلام آباد کو ”پاکستان سپیڈ“ سے چلانے کی اپنی دھن پر مگن ہو گئے ہیں انہوں نے راتوں رات اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں کو میٹرو کے ذریعے نئے ایئرپورٹ سے منسلک کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں تعمیراتی کاموں کی رفتار میں واضح طور پر تیزی آ گئی ہے لوڈشیڈنگ کے بے قابو جن کو قابو میں لانے کے لئے وزیر اعظم شہباز شریف کوشاں ہیں جبکہ عام افراد کے لئے اشیائے خورونوش سستی فراہم کرنے کے لئے ضلعی انتظامیہ چوکس نظر آنے لگی ہے۔ دریں اثناء آئی ایم ایف کے ساتھ پچھلی حکومت کے زیر التوا مذاکرات کو از سر نو پٹڑی پر چڑھایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل واشنگٹن میں اہم مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن عوام ان مذاکرات کے نتیجہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے خوفزدہ ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ وزیراعظم اپنے دورہ سعودی عرب سے کچھ اچھی خبریں لانے میں کس حد تک کامیاب نظر آتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -