حمزہ شہبازشریف، مقدمہ پھر عدالت عالیہ میں، تاحال حلف سے انکار اور وجوہات پیش کی گئیں 

 حمزہ شہبازشریف، مقدمہ پھر عدالت عالیہ میں، تاحال حلف سے انکار اور وجوہات ...

  

تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرے کئے  عثمان بزدار نے ایڈووکیٹ جنرل کو کام جاری رکھنے کے لئے کہا

مریم نواز میدان میں، کارکنوں سے خطاب،6مئی سے جلسوں کا اہتمام، وکلاء تنظیموں کی طرف سے عدلیہ مخالف مہم کی مذمت

لاہور سے چودھری خادم حسین

ملک بھر میں سیاسی اور معاشی بحران جاری ہے اور بظاہر اس کے ختم ہونے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سخت موقف کی وجہ سے تقسیم بھی اسی انداز سے ہو گئی،حتیٰ کہ قوم یعنی عوام بھی اسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ کا استعفیٰ، تبدیلی اور پھر انتخاب بھی ایک مسئلہ بن گیا، نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے حلف کے لئے اب تیسری بار عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے اور پہلے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے عدالت عالیہ سے گزارش کی ہے کہ عدالت کے حکم کی پاسداری نہیں کی گئی، چیف جسٹس مسٹر جسٹس امیر بھٹی نے گزشتہ روز سماعت کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کا جہاں تک تعلق ہے تو گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے عدالت کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی جس میں کہا گیا تھا کہ گورنر حلف سے انکار نہیں کر سکتے۔ عدالت نے دوسری بار صدر مملکت سے کہا کہ وہ اپنی طرف سے کسی کو حلف کے لئے مقرر کریں، اس حکم کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور ایک زبانی اطلاع یا میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر گورنر ہاؤس لاہور میں حلف کے لئے انتظامات کئے گئے جو دھرے کے دھرے رہ گئے اور چیئرمین سینٹ نہ صرف لاہور نہ آئے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ان کو کوئی ہدائت ہی نہیں دی گئی، اس اثناء میں گورنر چیمہ نے اپنے موقف پر اصرار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ تکنیکی طور پر منظور ہی نہیں ہوا اور وہ تاحال وزیراعلیٰ ہیں، حالانکہ نہ صرف استعفیٰ کی منظوری کا اعلان ہوا، بلکہ خود عثمان بزدار نے بھی تسلیم کیا اور استعفیٰ کی منظوری ہی کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوا۔

اس انتخاب کو گورنر، تحریک انصاف اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی متنازعہ قرار دے رہے ہیں اور تحریک انصاف کے ساتھ مسلم لیگ (ق) کی بھرپور کوشش یہ ہے کہ یہ معاملہ لٹکتا چلا جائے۔ چودھری پرویز الٰہی خود امیدوار تھے اور انتخاب ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے کرایا۔ ایوان میں جو ہنگامہ ہوا اس کے حوالے سے مقدمات بھی درج ہیں اور پولیس نے ویڈیو کلپس سے مدد بھی لی ہے۔ انتخاب کے حوالے سے عدالتی حکم کے مطابق پریذائیڈنگ افسر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے نہ صرف انتخاب کی توثیق کی بلکہ اسمبلی کے سیکرٹری سمیت بعض اہلکاروں کو معطل بھی کیا۔ جوابی طور پر چودھری پرویز الٰہی نے کہا ڈپٹی سپیکر کو اختیار نہیں کہ کسی کو معطل کر سکے اور اب خود ڈپٹی سپیکر کے سٹاف کو معطل کرکے انکوائری کا حکم دیا ہے۔ بہرحال اس کا فیصلہ بھی اب عدالت ہی کو کرنا ہے، تاہم جو تنازعہ پیدا ہو گیا اس کے اثرات ضرور ہوں گے۔

تحریک انصاف نے موجودہ وفاقی حکومت کے خلاف تحریک شروع کر رکھی ہے، گزشتہ روز پورے ملک میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی درخواست پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے، پھیلاؤ کی وجہ سے یہ مظاہرے ہر جگہ موثر نہ تھے اور بعض دفاتر کے باہر ٹوکن مظاہرے کئے گئے۔

مسلم لیگ (ن) نے بھی جوابی حکمت عملی مرتب کر لی اور مریم نواز اب میدان میں نکلی ہیں اور وہ عوامی جلسوں سے خطاب کریں گی۔ یہ سلسلہ 6مئی سے شروع ہوگا پروگرام مرتب کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ روز مریم نواز نے لاہور کے حلقہ این اے 128کا دورہ کیا۔ کارکنوں سے ملاقات کی اور داروغہ والا میں ممبر قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کی بسکٹ فیکٹری میں کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب بھی کیا۔ یوں انہوں نے عوامی رابطہ مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

آئین اور قانون کے حوالے سے کئی معاملات الجھائے جا رہے ہیں۔محکمہ قانون نے حالات حاضرہ اور ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے گورنر پنجاب کے موقف کو اپنانے اور اس کی تائید کے بعد ان سے کہا تھا کہ وہ ان درخواستوں کے حوالے سے خود کو دور رکھیں اور پیروی نہ کریں، انہوں نے خود انکار کیا اور اب وزیراعلیٰ عثمان بزدار (قائم مقام) نے ان کو کام جاری رکھنے کی ہدائت کر دی تھی، یوں معاملے کو مزید الجھایا جا رہا ہے کہ صدر مملکت نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے بارے میں گورنر کی طرف سے لکھا جانے والا خط وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھیج دیا۔ انہوں نے تاحال وزیراعظم کی طرف سے گورنر کو ہٹانے کی سفارش پر بھی کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

ادھر گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے پنجاب بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں عدلیہ اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف مذموم مخالفانہ مہم کی سخت مذمت کی اور چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ عدلیہ کے تحفظ کے لئے اقدامات کریں۔ وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں نے عہد کیا کہ عدلیہ کے تحفظ اور آئین و قانون کی بالادستی کے لئے ہر ممکن اقدام کئے جائیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -