انتقام کا لفظ ہماری ڈکشنری میں نہیں،یکم مئی سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی ہدایت کردی:شہباز شریف

  انتقام کا لفظ ہماری ڈکشنری میں نہیں،یکم مئی سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی ہدایت ...

  

        اسلام آباد (نوشاد علی سے)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے لفظ انتقام انکی ڈکشنری میں نہیں تاہم قانون اپنا رستہ خود اختیار کرے گا انہوں نے کہا کہ سپہ سالار کی تعیناتی آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق کریں گے، فوج قومی ادارہ ہے اس کیخلاف پروپیگنڈہ برداشت نہیں کیا جائیگا  وزیر اعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہونے کہا کہ انکی خواہش تھی تحریک انصاف کے اراکین استعفے نہ دیتے، اب قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا،عمران حکومت سے ورثے میں بہت کچھ ملا، معیشت کی حالت گھمبیر ہے حالت بیان نہیں کی جا سکتی، امریکہ سے دشمنی کسی صورت وارے میں نہیں، چین اور سعودیہ کے ساتھ دوستی پر فخر ہے، ہر مشکل مرحلے میں دونوں ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا،افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں میں امن ہوگا۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش تھی کہ پی ٹی آئی استعفے نہ دیتی تاہم وہ اب استعفیٰ دے چکے ہیں، اب قواعد کے مطابق فیصلہ ہو گا۔دورہ سعودی عرب سے متعلق انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی قیادت سے ملاقات ہو گی۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اور چین کے ساتھ دوستی پر فخر ہے، ہر مشکل مرحلے میں دونوں ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا۔امید ہے کہ دورہ سعودی عرب میں ہم اچھے نتائج لے کے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں میں امن ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ امریکہ سے برابری کی سطح پہ تعلقات استوار کریں گے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت سے ورثے میں بہت کچھ ملا ہے،عمران خان ملک کا دیوالیہ کرگیا ہے، بے روز گاری اور مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے بحران سامنے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ معیشت کی حالت گھمبیر ہے حالت بیان نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہاکہ وقت پر ایندھن منگوایا جاتا تو لوڈشیڈنگ نہ ہوتی،ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ دس کلو آٹے کا تھیلا چار سو روپے میں مل رہا ہے، یوٹیلٹی اسٹورز اور رمضان بازار میں چینی ستر روپے فی کلو مل رہی ہے، گزشتہ حکومت کام کرسکتی تھی تاہم اس نے صرف شور مچایا۔شہباز شریف نے کہا کہ کوئی بھی قانون ہاتھ میں لے گا تو قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ واضح تھا، این ایس سی کی اعلامیے کی پنچ لائن یہ تھی کی سازش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ مراسلے کے بارے میں کمیشن بنانے پر غور کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس اب جمہوری ہاؤس بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتقام کالفظ ہماری ڈکشنری  میں نہیں ہے، لیکن قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ایک سوا ل پر انہوں نے کہاکہ پاک فوج کے سربراہ کی تعیناتی آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ فوج قومی ادارہ ہے اس کے خلاف پروپیگنڈہ کسی صورت بر داشت نہیں کیا جائیگا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ الیکشن ریفارمز پر بات کیلئے تحریک انصاف پارلیمنٹ میں آئے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ صدر مملکت اور گورنر پنجاب نے آئین توڑا،

افطار ڈنر

  اسلام آ باد (مانیٹر نگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)  وزیر اعظم نے 30 اپریل تک تمام مسائل کا سد باب کرکے یکم مئی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کی ہدایات جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ  عوام کو گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مشکلات میں مبتلا نہیں کر سکتے،ایندھن کے مربوط اور مستقل نظام کی تشکیل اور گرمیوں میں آئندہ ماہ کی پیشگی منصوبہ بندی کریں،فصلوں کی کٹائی کے دوران ڈیزل کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی شکایت پر وزیرِ اعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کی نشاندہی کریں، فوری اور سخت کاروائی کی جائے، کسانوں کو زرعی مشینری چلانے کیلئے ڈیزل کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،دیہی علاقوں میں ضلعی انتظامیہ یقینی بنائے کہ کسانوں کو ڈیزل کے حصول میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ پر اعلی سطح کا ہنگامی اجلاس ہوا  جس میں  بتایا گیا کہ شہباز شریف سپیڈ  ایک سال سے زائد عرصے سے بند پڑے 27 بجلی گھروں میں سے 20 کو فعال بنا دیا گیا،20 بجلی گھروں کے دوبارہ چلنے سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے،گزشتہ حکومت نے چار سال میں بجلی گھروں کیلئے ایندھن نہیں خریدا، موجودہ حکومت نے صرف دو ہفتے میں نہ صرف ایندھن کا انتظام کیا بلکہ ان بجلی گھروں سے بجلی کی پیداوار بڑھا کر لوڈ شیڈنگ کا سدِ باب بھی کیا جا رہا ہے،ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار تقریباً 18500 میگاواٹ ہے، طلب کے لحاظ سے بجلی کا شارٹ فال 500 سے 2000 میگاواٹ ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو حکومت سنبھالتے ہی بریفنگ دی گئی تھی کہ 27 بجلی گھر ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے یا دیگر تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے بند پڑے ہیں،لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ گزشتہ حکومت کا بجلی گھر چلانے کیلئے ایندھن کی بروقت فراہمی کا منصوبہ نہ ہونا ہے،لوڈ شیڈنگ کی دیگر وجوہات میں ایندھن فراہمی میں مسائل، بجلی گھروں کی بروقت مرمت اور دیکھ بھال میں مجرمانہ غفلت ہے۔ وزیرِ اعظم نے منصب سنبھالتے ہی فی الفور ان بجلی گھروں کو فعال بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں، اسکے علاوہ وزیرِ اعظم کو تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے میں جانے والے فیڈرز کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے 30 اپریل تک تمام مسائل کا سد باب کرکے یکم مئی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کی ہدایات جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ  عوام کو گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مشکلات میں مبتلا نہیں کر سکتے،ایندھن کے مربوط اور مستقل نظام کی تشکیل اور گرمیوں میں آئندہ ماہ کی پیشگی منصوبہ بندی کریں،  وزیرِ اعظم نے نقصان میں جانے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے فیڈرز کے خسارے ختم کرنے کی طویل مدتی مؤثر منصوبہ بندی طلب کر لی،فصلوں کی کٹائی کے دوران ڈیزل کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی شکایت پر وزیرِ اعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے   مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کی نشاندہی کریں، فوری اور سخت کاروائی کریں: وزیراعظم شہباز شریف کا حکم  دیدیا۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ  کسانوں کو زرعی مشینری چلانے کیلئے ڈیزل کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،دیہی علاقوں میں ضلعی انتظامیہ یقینی بنائے کہ کسانوں کو ڈیزل کے حصول میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔اجلاس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فانڈیشن (BMGF) کے شریک چیئرمین جناب بل گیٹس سے ٹیلی فون پر بات کی، پاکستان میں بی ایم جی ایف کے تعاون سے جاری صحت عامہ اور سماجی شعبے کے پروگراموں بشمول  بشمول پولیو کا خاتمہ اور پاکستان میں حفاظتی ٹیکوں، غذائیت اور مالیاتی شمولیت کی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے فانڈیشن کا تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بی ایم جی ایف کے ساتھ اپنے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے  تمام جاری شعبوں میں فانڈیشن کے ساتھ اپنی نتیجہ خیز شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔پاکستان نے پولیو کے خاتمے کی جانب پیش رفت کو برقرار رکھا ہے اور اس سلسلے میں بی ایم جی ایف کی جانب سے فراہم کی جانے والی انمول مدد کو سراہتا ہے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ 2021 میں پولیو کا صرف ایک کیس ریکارڈ کیا گیا تھا، وزیر اعظم نے زور دیا کہ ان کی حکومت ملک سے پولیو کی تمام اقسام کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔وزیراعظم نے 15 ماہ بعد 2022 میں پولیو وائرس کے پہلے کیس جس کی تصدیق حال ہی میں شمالی وزیرستان میں ایک بچے میں ہوئی تھی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی خیبرپختونخوا صوبے کیلئے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے معیار کو بڑھانے اور بہتر بنانے اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی سیکیورٹی بڑھانے کیلئے ایک خصوصی ایمرجنسی رسپانس پلان پہلے ہی زیرِ عمل ہے۔مسٹر گیٹس نے مثبت پیش رفت کا اعتراف کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے فانڈیشن کی پاکستان کیلئے مسلسل حمایت کا اعادہ کیا کہ پولیو وائرس کی وجہ سے کسی بچے کو فالج کا خطرہ نہیں ہے۔افغانستان کو درپیش پولیو سے متعلق چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے افغانستان میں پولیو ویکسینیشن مہم کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں افغانستان کو مناسب بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعظم اور مسٹر گیٹس نے پاکستان کی COVID-19 ویکسینیشن مہم پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مزید  انہوں نے حکومت کے زیرقیادت مختلف پروگراموں کیلئے بی ایم جی ایف کی مدد پر تبادلہ خیال کیا جن کا مقصد غذائیت اور سٹنٹنگ سے نمٹنے، حفاظتی ٹیکوں کی ضروری خدمات، مائیکرو پیمنٹ گیٹ ویز کی مالی شمولیت اور قومی بچت کے پروگرام کو ڈیجیٹائز کرنا ہے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -