پولیس سروس کے 7اعلیٰ افسروں کی خدمات ایف آئی اے کے حوالے،نوٹیفکیشن جاری

 پولیس سروس کے 7اعلیٰ افسروں کی خدمات ایف آئی اے کے حوالے،نوٹیفکیشن جاری

  

         اسلام آباد، لاہور (سٹاف رپورٹر،کرائم رپورٹر) وفاقی حکومت نے پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 20 کے 7 افسران کے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں تبادلے کے احکامات جاری کیے ہیں،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن  کی طرف سے اس ضمن میں  نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے  جس کے مطابق پولیس سروس گریڈ 20 کے  کیپٹن ریٹائرڈ عاصم خان کی خدمات سندھ حکومت سے ایف آئی اے کے سپرد،پولیس سروس  گریڈ 20 کے احسان منظور کی خدمات   بلوچستان حکومت سے واپس لے لی گئی احسان منظور کی خدمات ایف آئی اے کے سپرد کر دی گئی  پولیس سروس گریڈ 20 کے عبدالجبارکی خدمات   بھی ایف آئی اے کے سپرد  پولیس سروس گریڈ 20 کے جہانزیب  نظیر خان کی خدمات  اسلام آباد سے واپس لیکر ایف  آئی اے کے سپرد کردیں اس طرح  پولیس سروس گریڈ 19 کے محمد شہزاد  آصف خان کی خدمات بلوچستان سے ایف  آئی اے کے سپرد پولیس سروس گریڈ 19 کے کیپٹن ریٹائرڈ جواد قمر  کی خدمات بھی بلوچستان سے ایف  آئی اے کے سپرد  پولیس سروس گریڈ  19 کے سرفراز خان ورک کی خدمات ایسٹبلشمنٹ ڈویڑن سے ایف  آئی اے کے سپرد  کردی گئیں تمام تقرر و تبادلوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے۔

 ایف آئی اے

 گے۔ہمارے دین میں ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے چین جانا پڑے تو جانا چاہیے۔اور جہاں علم مل رہا ہے وہاں حملہ ہوا ہے۔یہ حملہ پاکستان کی ترقی کے خلاف ہے۔پیپلزپارٹی اور ریاست پاکستان اس دہشت گردی کو کسی طور پر قبول نہیں کریں گے۔بلوچ بھائی اپنے حقوق پرامن جدوجہد سے حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کے حقوق جانتے ہیں۔ملک سیکورٹی ادارے اس طرح کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ملک کی سیاسی صورتحال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سی ای سی اجلاس میں پوری قوم کومبارکباددی گئی۔پاکستان کی تاریخ میں بارجمہوری عدم اعتمادکامیاب ہوا۔ایک غیرجمہوری شخص ملک پرمسلط کیاگیاتھا۔ہم نے عدم اعتمادکاہتھیاراستعمال کرکے اس کوگھربھیجا۔خاص طورپرپیپلزپارٹی کے قائدین اورجیالوں کومبارکبادپیش کرتاہو۔ہم نے سلیکٹڈحکومت کیخلاف سڑکوں پراحتجاج کرنا ہے۔چار برس جہدوجد کی اور کامیاب ہوئے۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ہم نے اپنی کامیابی حاصل کرلی لیکن ہم آئین کے خلاف اقدام کو بھول نہیں سکتے۔اگر آئین کی خلاف ورزی بھول گئے تو آگے بھی اس طرح خلاف ورزی ہوگی۔آئین کی خلاف ورزی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ملوث ہے۔آئین پر حملے کی تحقیقات ہونی چاہئیے۔میں اس سی ای سی اجلاس کے فیصلے کو لیکر اسلام آباد جارہا ہوں۔خان صاحب مجھے کیوں نہیں بچایا کی مہم چلا رہے ہیں۔ہم سلام پیش کرتے ہیں۔سب اداروں کو جو غیر جانبدار بن گئے ہیں۔جب ادارے آئینی رول کی طرف آرہے ہیں۔پیپلزپارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔یہ جو جمہوری شروع ہوا ہے وہ مکمل ہوگا۔لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے ملاقات کی اور ایک افطار کی دعوت پر ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں چارٹرآف ڈیموکریسی پر عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے۔سب جماعتوں نے ملک کے مفاد کو دیکھنا ہے۔جو نقصان معیشت اور خارجہ پالیسی اور ملک کو ہوا ہے اس نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوں اس لیے انتخابی اصلاحات کرنی ہیں۔سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر انتخابی اصلاحات پر کام کریں گے۔پہلے کہا جاتا تھا پہلے احتساب پھر انتخاب۔ہم کہتے ہیں پہلے اصلاحات پھر انتخاب۔یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔جس طرح شہباز شریف نے پہلی تقریر میں باتیں کی۔اس سے تاثر گیا کہ ایک صوبر اور سیاسی شخص کو وزیراعظم کا عہدہ ملا ہے۔عمران خان حکومت نے بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے خواتین کے پیسے بند کئے۔اب ان خواتین کو بھی حق ملے گا۔انہوں نے کہا کہ پینشنرز کے لئے پیپلزپارٹی آواز بلند کی شہبازشریف صاحب نے اعلان کیا ویلکم کرتے ہیں۔ملکر کام کرنے سے اچھے نتائج ملیں گے۔بدھ کو اسلام آباد پہنچ کر حلف لوں گا۔شہباز شریف حکومت کا حصہ بنوں گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئین شکنی پاکستان کا سب سے بڑا جرم ہے۔اس کی تحقیقات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے معاہدہ سامنے ہوتا تو دہرا دیتا۔اس معاہدے پر عمل ہوگا۔سندھ کے بلدیاتی نظام میں بہتری لانی ہے۔ہم اس بلدیاتی نظام میں بہتری کی گنجائش ہے اور بہتری لائیں گے۔ملکر کام کرنے سے بھتر کام ہوگا اور کامیابی بھی ملے گی۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ خان صاحب کے بیانیے میں کبھی سچ نہیں ہوتا۔جب سچ نہیں ہوتا پھر بھی بات کرتے رہتے ہیں۔خان کے ڈکٹیشن پر کچھ نہیں ہوگا۔تحریک انصاف اور عمران خان نے غلطی کی ہے پارلیمان چھوڑنے کی۔خان واپس آئے پارلیمان میں اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کرے۔سول وار کسی بات کا حل نہیں۔ہم کراچی میں پیدا ہوئے ہیں اور سول وار دیکھی ہے۔اس شخص کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران ہے۔ہم ملک کو معاشی مسائل سے نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہہمیں خوشی ہوئی وزیراعظم شہبازشریف کراچی آئے وزیراعلی ہاؤس آئے۔سندھ کے مسائل سنے۔چار سال سے اداروں پر حملے ہوئے۔اب کسی شخص کی وجہ سے اداروں کو متنازعہ نہیں ہونے دیں گے۔ماضی میں جن سے غلطی ہوئی وہ درست کرلیں۔انہوں نے کہا کہ کافی افواہ چلی کے کوئی مطالبہ لیکر لندن گیا.لیکن چارٹرآف ڈیموکریسی پر بات ہوئی صدر کا مواخذہ مشکل فیصلہ ہوگا جس کی وجہ موجودہ نمبرز ہیں۔اب ہر پارٹی چیلنج قبول کرے۔مل کر ہم ملکی مسائل حل کرسکتے ہیں۔

بلاول 

مزید :

صفحہ اول -