چیف سیکرٹری پنجاب نے بہترین کارکردگی سے نئے حکمرانوں کو بھی گرویدہ بنا لیا

چیف سیکرٹری پنجاب نے بہترین کارکردگی سے نئے حکمرانوں کو بھی گرویدہ بنا لیا

  

 اگرچہ پنجاب میں عملاً گزشتہ تین ہفتوں سے کوئی حکومت موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجودچیف سیکرٹری ڈاکٹر علی افضل کامران اچھے انداز میں حکومت چلا رہے ہیں  اور انہوں نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا ہے کہ حکومت چاہئے کوئی بھی ہو آفیسر ریاست کے ساتھ چلتے ہیں اور سرکاری افسر کا عمل اور ہمدردیاں ریاست کے ساتھ ہوتی ہیں انہوں نے کڑے وقت میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کو جب حکومت موجود نہیں اچھے انداز میں چلایا ہے اور چلا رہے ہیں انہیں اگرچہ سابق حکمرانوں نے پنجاب کا آفیشل سربراہ مقرر کیا مگر جب پنجاب میں تبدیلی کی ہوا چلی تو چیف سیکرٹری نے ایمانداری سے نئے آنے والے حکمرانوں کو اپنے طرز عمل سے اپنا گرویدہ بنا لیا اور وہ سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اگرچہ بعض افسران  ان سے تعاون نہیں کر رہے ہیں جس میں لاہور سرفہرست ہے اس کے باوجود وہ صوبے میں حکومت نہ ہونے کی کمی محسوس نہیں ہونے دے رہے اب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلف ہونا باقی ہے امید کی جاتی رہی ہے کہ حمزہ شہباز گزشتہ تین روزمیں وزارت اعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھا لیں گے مگر اس سے قبل جنگی بنیادوں پرپنجاب کے اندرکی پوسٹوں پر منجھے ہوئے اور بے داغ ماضی رکھنے والے افسروں کا تقرر شروع کر دیا گیا ہے صوبے میں چیف سیکرٹری کے بعد اہم ترین پوسٹ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ کی پوسٹ پر انتہائی منجھے ہوئے تجربہ کار تربیت یافتہ آفیسر بریسٹر نبیل اعوان کو تعینات کر دیا گیا ہے بیرسٹر نبیل اعوان کا شمار سیاست سے پاک افسروں میں ہوتا ہے وہ برسٹر کی ڈگری رکھنے والے اہم اور واحدآفیسر ہیں ماضی میں انہیں مشکل ترین وقت میں پنجاب کے محکمہ صحت کی بطور سیکرٹری ذمہ داری ڈالی گئی انہوں نے پنجاب کے اندر شہباز شریف کے پنجاب کے اندر منصوبوں کو جاری رکھا اور انہیں کا میابی سے مکمل کرایا صوبے کے اندر ہیلتھ کارڈ جیسا منصوبہ شروع کرنا ان کی خدمات میں سے ایک اہم منصوبہ ہے صوبہ کے تمام ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے لئے مفت علاج معالجہ کی سہولیات کو یقینی بنانا بھی ان کی خدمات میں سے ایک ہے جہاں تک کہ انہوں نے ”صحت“ کے اندر موجود مافیاز پر ہاتھ ڈالا اور ان کی کے خلاف عملاً کارروائی کا آغاز کیا اپنی مرکز میں تبدیلی سے چند روز قبل انہوں نے کرپشن کی شکایات پر لاہور کے 3بڑے ہسپتالوں کا سپیشل آڈٹ شروع کرایا مگر وہ ان کے جاتے ہی بند کر دیا گیا اب جب وہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں ان کے کندھوں پر اپنے شروع کردا ہتک کام کی مکمل کرانا اور مافیاز کو پکڑ کر ان کے پیٹوں سے لوٹا ہوا مریضوں کا پیسہ نکلوانا فرض اور قوم کا فرض ہے امید ہے وہ ہر منصوبہ مکمل کرائیں گے۔بیرسٹر نبیل اعوان آنے والے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز جو کہ صوبے میں ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والے شہباز شریف کے صاحبزادے ہیں ان کی پالیسیوں پر عمل کرائیں گے اور تیز ترین طریقے سے حمزہ شہباز کی پالیسیوں پر عمل کرائیں گے اس لئے ان جیسے تجربہ کار آفیسر کی پرنسپل سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے پرنسپل سیکریٹری کی تعیناتی کے بعد مرحلہ آتا ہے دیگر اہم سیٹوں پر تعیناتی کا تو آئندہ دنوں میں کمشنر لاہور ڈپٹی کمشنر سی سی پی او لاہور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم) ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیکرٹریز خصوصاً سیکرٹری صحت وغیرہ سیکرٹری بلدیات کی تبدیل کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈی جی ایل ڈی اے سی ای او لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی وائس چیئرمین ایل ڈی اے واسا اور تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز ڈی پی اوز آر پی اوز سی سی پی اوز لگانے کے لئے بھی نام فائنل کر لئے گئے ہیں حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے حلف اٹھانے کے فوری بعد یہ تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی اور یہ بھی بنایا جا رہا ہے کہ سیکرٹری صحت احمد جاوید قاضی کو بھی اہم عہدہ دیا جا رہا ہے سندھ سے اہم ترین بیورو کریٹ نجم شاہ اور علی جان کی بھی پنجاب میں آمد کا امکان ہے تاہم یہ ساری ٹیم پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ پنجاب بیرسٹر نبیل اعوان کی مشاورت سے بنائی جا رہی ہے۔

رپورٹر کی ڈائری

مزید :

صفحہ اول -