نوشہرہ،بورڈز میں کنٹرولر امتحانات کی پوسٹوں پر تعیناتیوں میں اقرباے پروی کا انکشاف

نوشہرہ،بورڈز میں کنٹرولر امتحانات کی پوسٹوں پر تعیناتیوں میں اقرباے پروی ...

  

      نوشہرہ (بیورورپورٹ) صوبہ بھر کے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈز میں کنٹرولرز امتحانات کی پوسٹوں پر تعیناتیوں میں وسیع پیمانے پر اقربا پروری،سیاسی مداخلت کے ذریعے بے قاعدگیوں کا انکشاف،فل پینل کا مرتب کردہ شارٹ لسٹ راتوں رات تبدیل،اہم حکومتی شخصیت کی ایماء پر منظور نظر افراد پر نوازشات کی بارش،گریڈ 19کی سیٹ پر گریڈ 18کے آفیسر کو تعینات کر کے حقداروں کی حق تلفی کی گئیں،متاثرہ گریڈ 19کے افراد کا عدالت سے رجوع کرنے کی تیاریاں،تفصیلات کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختون خوا بھر میں 8ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ ز میں کنٹرولر امتحانات کے لیے فل پینل کے ذریعے انٹرویوز کی گئیں تھیں،اس فل پینل کی نگرانی صوبائی وزیر تعلیم کررہے تھے جس میں سیکرٹری تعلیم،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن،وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی اور سیکرٹری اسٹبلیشمنٹ شامل تھے،جس نے فائنل شارٹ لسٹ مرتب کرکے حکم نامے جاری کرنے تھے اس میں مردان اور ایبٹ آباد بورڈز کے لیے پہلے سے نامزدگیوں کے حکم نامے جاری ہویے تھے جبکہ 6باقی مانندہ بورڈز کا معاملہ چیف سیکرٹری نے تین ماہ  سے زیر التوا رکھا،اور جب  مختلف امتحانی بورڈز کے لیے کنٹرولر امتحانات کی تعیناتیوں کے حکم نامے جاری ہوئے تو ایسے افراد کے نام حکم نامے جاری ہوئے جس نے انٹرویو سمیت کسی بھی مرحلے میں حصہ نہیں لیا تھا اس میں ایسے بھی افراد شامل تھے جو غیر قانونی طور پر تین سال زائد عرصہ سے دوسرے بورڈ میں عارضی طور پر اسی پوسٹ پر تعینات تھے،واضح رہے کہ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختون خوا حکومت کی اہم ترین شخصیت کی ایماء پر فل پینل کا مرتب کردہ فائنل شارٹ لسٹ راتوں رات تبدیل کرکے منظور نظر اور سفارشیوں سمیت قواعد و ضوابط پر نہ اترنے والے سکیل 18کے افراد کو سکیل 19کی پوسٹ دیکر حقداروں کی حق تلفی کی گئی ہے ذرائع سے بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق سیکرٹری تعلیم نے میرٹ سے ہٹ کر تعیناتیوں کو مسترد کردیا تھا جس پر سابق سیکرٹری تعلیم کو تبدیل کرکے اسٹبلیشمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی تھی ذرائع سے بھی معلوم ہوا ہے کہ جو جو افراد متاثر ہوئے ہیں وہ ان تعیناتیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی بھی مکمل تیاریوں میں مصروف ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -