خواتین ورکرز کا کم از کم اجرت میں اضافے کا خیر مقدم 

  خواتین ورکرز کا کم از کم اجرت میں اضافے کا خیر مقدم 

  

پشاور(سٹی رپورٹر) خواتین ورکرز نے کم از کم اجرت میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے موثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ 14 اپریل 2022 خواتین ورکرز الائنس نے وفاقی حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت 25000 مقرر کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ویمن ورکرز الائنس نے پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کو بھی تجویز کیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی طرح غیر ہنر مند کارکنوں کی کم از کم اجرت میں اضافہ کریں۔ویمن ورکرز الائنس خواتین کارکنوں کا ایک ملک گیر اتحاد ہے جو پاکستان کے 14 صنعتی زونز والے اضلاع میں کام کرنے والی خواتین کی نمائندگی کرتا ہے یہ الاؤنس خواتین کارکنوں کے لیے جائے کار(دفاتر، صنعتوں وغیرہ)کو خواتین کے لئے ساز گار بنانے اور معقول اور مساوی اجرت کے نفاذ کیلئے کوشاں ہے ویمن ورکرز کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کے عملی نفاذ کے لیے موئثر لیبر انسپیکشن نظام کا ہونا از حد ضروری ہے لیبر انسپیکشن میں حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے مزدوروں کو کم از کم اجرت نہیں مل پاتی ہے جبکہ اس ضمن میں خواتین کارکنان کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ صنعتی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کی اکثریت کو سرکاری طور پر طے شدہ کم از کم اجرت سے کم معاوضہ ملتا ہے الائنس کی جانب سے چھ ہزار خواتین کارکنان سے کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ تقریباً دو تہائی خواتین کارکنان طے شدہ کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہ پر ملازمت کررہی تھیں اگر چہ اس سروے کے نتیجے کو تمام خواتین کارکنان پر منطق نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی بنیاد پر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ محض کم از کم اجرت کا اعلان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا بھی ضروری ہیں گزشتہ سالوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کم از کم اجرت والے کارکنان اور ان کے خاندانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے ایسے میں کم از کم اجرت میں کسی بھی طرح کا اضافہ ایک مثبت قدم ہے تاہم وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اسے اس حد تک لائے جس سے کارکنان اپنی اور اپنے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے قابل ہوسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -