علاقائی تجارت اضافہ،عملی اقدامات کی ضرورت ہے:سرحد چیمبر

  علاقائی تجارت اضافہ،عملی اقدامات کی ضرورت ہے:سرحد چیمبر

  

      پشاور(سٹی رپورٹر) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حسنین خورشید احمد نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام اور باہمی تجارت کے فروغ کے لئے علاقائی تجارت کو بڑھانے کے لئے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان اور آذر بائیجان کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے لئے وسیع تر مواقع موجود ہیں تاہم حکومتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لئے مشکلات اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے چاہئیں خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور افغانستان سمیت وسطی ایشیاء کی ریاستوں کے ساتھ باہمی تجارت اور ایکسپورٹ کے لئے گولڈ ن گیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ صوبہ کی تجارت اور کاروبار کا زیادہ دارومدار افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ہے۔ پاکستان اور آذر بائیجان کی حکومتیں دونوں ممالک کے تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مشترکہ اقدامات اٹھائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پاکستان میں تعینات آذر بائیجان کے سفیر خضر فرہادو (Khazar Farhadove) سے سرحد چیمبر میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر عمران خان مہمند ٗ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین پرویز خان خٹک ٗ محمد اورنگزیب ٗ آذر بائیجان سفارتخانہ کے Tamedon ichalilov ٗ شعیب خان ٗ ایکسپورٹرز ٗ امپورٹرزاور تاجر بھی موجود تھے۔ پاکستان میں تعینات آذر بائیجان کے سفیر خضرفرہادو نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کو کافی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان باہمی تجارت کو مزید بڑھانے کے لئے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لئے متعدد ورکنگ گروپ دونوں ممالک کے درمیان قائم کئے گئے ہیں جو کہ دونوں برادر ممالک کے مابین باہمی تجارت کی راہ میں درپیش مسائل کے فوری حل کے لئے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آذر بائیجان بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے کافی موزوں جگہ ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے سرمایہ کاروں کو آذر بائیجان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔ آذر بائیجان کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آذر بائیجان کے ساتھ دوستی کافی احسن طریقہ سے نبھائی ہے جس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ بالخصوص آرمنیا کے مسئلے پر پاکستان نے آذر بائیجان کی کافی حمایت کی تھی۔ سرحد چیمبر کے صدر حسنین خورشید احمد نے کہاکہ پاکستان کے لئے وسطی ایشیائی ریاستوں کی ایک وسیع اور بڑی مارکیٹ ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم نہ ہونے کے برابر ہے جس کو مزید وسعت دینے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں کافی کمی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں صورتحال جلد بہتر ہوجائیں اور افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت سمیت وسطی ایشیاء کی ریاستوں کے ساتھ ایکسپورٹ میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ سرحد چیمبر کے صدر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں تیل ٗ گیس ٗ ہائیڈرو پاور جنریشن ٗ معدنیات ٗ قیمتی پتھروں ٗ فرنیچر اور دیگر اہم شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرنے کے نادر مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے آذر بائیجان کے سرمایہ کاروں کو خیبر پختونخوا کے اہم شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور آذر بائیجان کے درمیان باہمی تجارت کی راہ میں درپیش مسائل و مشکلات کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ باہمی تجارت کے حجم کو مزید وسعت دی جاسکے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -