سرکاری ادارے پیسہ کمانے کی بجائے عوام کو سستی تفریح کا بھی سوچیں:چیف جسٹس قیصر رشید

سرکاری ادارے پیسہ کمانے کی بجائے عوام کو سستی تفریح کا بھی سوچیں:چیف جسٹس ...

  

       پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس قیصررشید نے کہا ہے کہ سرکاری ادارے محض پیسہ کمانے کی بجائے لوگوں کی تفریح اور زہنی سکون کا بھی سوچیں ہر جگہ پر کمرشل ایکٹیوٹیز بند ہونی چاہیئے ماحول کو بھی بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز اضغرشاہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر سید علی شاہ کی رٹ کی سماعت کے دوران دیئے دو رکنی بینچ  چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصررشید اور جسٹس اعجازانور پر مشتمل تھا اس موقع پر ڈسٹرکٹ فارسٹ افیسر طارق خان ٹی ایم او ٹاون ون پشاور اور اس کے وکیل صباالدین خٹک عدالت میں پیش ہوئے رٹ میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ گورنمنٹ کالج پشاور کے سامنے دو کنال زمین خالی پڑی ہے جو گرین بیلٹ کا حصہ ہے تاہم ابھی تک اسے اباد نہیں کیا گیا اور خدشہ ہے کہ وہاں پر دکانیں اور پلازے تعمیر کرکے کرایوں پر دیئے جائیں گے اس موقع پر ٹاون ون کے وکیل صبا الدین خٹک نے عدالت کو بتایا کہ یہ گرین بیلٹ کا حصہ ہے سابقہ وقتوں میں ایک فریق نے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تایم ٹی ایم او نے اپنی زمین کا قبضہ لے لیا ہے اور وہاں پر تمام تعمیرات روکی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپ لوگ ہرجگہ کو کمرشلائز نہ کریں اور اس حوالے سے ضروری ہے کہ لوگوں کی تفریح کا بھی خیال رکھیں بعد ازاں عدالت نے ڈسٹرکٹ فارسٹ افیسر پشاور اور ٹی ایم او کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے ایک پلان بنائیں کہ کس طرح اس گرین بیلٹ کی خوبصورتی کو بحال کیا جا سکے اور اسے وہاں کے افراد کیلئے ایک چھوٹے پارک میں تبدیل کیا جا سکے مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔

مزید :

صفحہ اول -