ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی ”بیمار“ حالت تشویشناک: ”سرجری“ کی ضرورت بڑھ گئی 

ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی ”بیمار“ حالت تشویشناک: ”سرجری“ کی ضرورت بڑھ گئی 

  

 وہاڑی(بیورورپورٹ،نامہ نگار)ناقص ما نیٹرنگ سسٹم سے سالانہ 15کروڑ خرچ ہونے کے باوجودڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال معیاری علاج گاہ نہ بن سکا پرائیویٹ ہسپتال آباد،غریب مریض ڈاکٹرز کی حوس زر کی بھینٹ چڑھنے لگے تفصیل کے مطابق DHQہسپتال وہاڑی جو کہ جنوبی پنجاب کے 11اضلاع میں تیسرا بڑا ہسپتال ہے جس کے سالانہ اخراجات کا حجم 15کروڑ سے بھی زائد ہے لیکن یہ ہسپتال عوام (بقیہ نمبر18صفحہ6پر)

کو معیاری علاج فراہم کرنے میں بر ی طرح ناکام ہو چکا ہے اور عوام کا اعتماد بھی سرکار کے نظام صحت سے اٹھ رہا ہے بد قسمتی یہ ہے کہ کسی بھی حکومتی وزیر مشیر نے آج تک ہسپتال کے نام پر کروڑوں روپے کی بربادی کاکوئی  نوٹس نہیں لیا اس وقت 106سینئر و جونیئر ڈاکٹرز اور سینکڑوں کی تعداد میں نرسز و پیرا میڈیکل سٹاف تعینات ہیں سیاسی، سماجی و سول سوسائٹی کے لوگوں عبدالرشید، محمد جمیل عرفان احمد، اے ڈی صابر،عقیل احمد، غلام رسول، ربنواز،عبدالرحمن،،محمد آصف،محمد علی نے بتایا کہ ڈاکٹرز ہسپتال میں محض پکنک منانے آتے ہیں کوئی بھی سینئر ڈاکٹر 11بجے سے پہلے آٹ ڈور نہیں بیٹھتا ان میں سے کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں ہے جس نے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال نہ بنا رکھا ہواور ان کی تمام تر ترجیح پرائیویٹ پریکٹس ہوتی ہے جنرل فزیشن ڈاکٹر سلمان رانا،ڈاکٹر فاروق جاوید، فیضان کمال جوئیہ، ڈاکٹر لطیف، ڈاکٹر محسن ممتاز، ڈاکٹر احمد توحید بھٹی، ڈاکٹر رضوان، ڈاکٹر رضیہ محمود کمال، ڈالٹر غزالہ کمال، ڈاکٹر تنویر احمد، ڈاکٹر حفیظ احمد،  ڈاکٹر عائشہ رضوان، ڈاکٹر سمیہ غفار، ڈاکٹر غلام حسین آصف، ڈاکٹر یحی فاروق ڈاکٹر فرخ محمود، ڈاکٹر محمد حسین سمیت تقریبا سبھی ڈاکٹرز پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں اور کچھ ڈاکٹرز نے مبینہ طور پر ہسپتال میں کمیشن پر اپنے کارندے چھوڑ رکھے ہیں جو کہ مریض کو اپنی چکنی چڑی باتوں یا ڈرا دھمکا کر پرائیویٹ کلینک جانے پر قائل کرتے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کئی ڈاکٹرز ہسپتال کا فرنیچر اور قیمتی سامان بھی پرائیویٹ ہسپتالوں میں استعمال کرتے ہیں سرکاری ادویات بھی پرائیویٹ ہسپتال لے جاتے ہیں لاکھوں روپے کا بائیو میٹرک حاضری سسٹم متروک ہو چکا ہے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نام پر تھرڈ کلاس ادویات منگوائی جاتی ہیں جن کے استعمال سے مریضوں کے زخم خراب پڑھ جاتے ہیں انسولین کیلئے کئی فرضی مریض درج کر رکھے ہیں  ڈایلسز اور ہیپا ٹائٹس مریضوں کا استحصال کیا جاتا ہے شہریوں نے وزیر اعظم پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -