وہاڑی میں پولیس گردی،وکلا بڑے احتجاج کیلئے تیار

وہاڑی میں پولیس گردی،وکلا بڑے احتجاج کیلئے تیار

  

وہاڑی(بیورورپورٹ،نمائندہ خصوصی) صدر ہائیکورٹ بار ملتان میاں عادل مشتاق کی ڈسٹرکٹ بار وہاڑی میں ہنگامی پریس کانفرنس ڈسٹرکٹ بار میں گزشتہ جمعرات کے دن سے پولیس کے خلاف ہڑتال جاری ہے۔صدر ہائیکورٹ بار ملتان میاں عادل مشتاق نے صدر بار بابر مشتاق دوگل، جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار محمد ارشد بھٹی،جنرل سیکرٹری(بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

 بار رانا عمران ریاست،ممبر پنجاب بار کونسل عارف کمال نون، سابق ممبر پنجاب بار کونسل ندیم رضا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جبکہ اس موقع پر سابق صدر بار شکیل تارڑ،احتشام صدیقی،فراز اولکھ،شیخ علی،میاں جہانزیب یوسف،احس چوہدری سمیت درجنوں وکلا موجود تھے۔میاں مشتاق عادل نے وکلا اور پولیس کے درمیان جاری چپقلش کے بارے میں حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف جیسے آمر نے جب وکلا کے خلاف محاذ کھڑا کیا تو وکلا وکلا نے اس کو کہاں پہنچا دیا ہے آج وہ عدالتی مفرور ہے اور پاکستان میں داخل نہیں ہوسکتا۔پولیس اہلکار وکلا کو تشدد کا نشانہ بناکر وکلا تحریک کا سامنا کیسے کر سکتے ہیں۔پولیس تھانہ دانیوال نے جس بہیمانہ تشدد کا شکار وکلا کو بنایاوہ انتہائی دلخراش ہے وکلا کو تشدد کانشانہ بنانے والے پولیس ملازمین کو گرفتار کرکے سزائیں کیوں نہیں دلائی جارہیں۔عدالت کے آرڈر کے بعد پولیس نے ٹریکٹر سپرداری پر نہ دیا تو وکلا کی پولیس کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔پولیس نے عدالت کا میٹر عدالت میں حل کرنے کے بجائے دہشتگردی کا راستہ اختیارکیا اور پولیس نے وکلا کو جھکانے کی کوشش کی ایس ایچ او جہانگیر مترو کے علاوہ دیگر پولیس ملازمین ہمارے ملزمان ہیں۔پولیس نے وکلا پر درج ایف آئی آر میں تمام قانونی تقاضوں کو پامال کیا ہے۔پولیس نے تھانہ دانیوال کی لائٹیں اور سی سی ٹی وی کیمرے بند کرکے عقوبت خانے میں وکلا کو تشدد کانشانہ بنایا وکلا کے ساتھ پولیس کا رویہ ایسا ظالمانہ ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیسا ہوگا۔پولیس نے جھوٹی انا کیلئے فرعونیت کا مظاہرہ کیا پولیس عوام کی تنخواہ پر پلتی ہے اور عوام کی خادم ہے لیکن عوام کے ساتھ ان کا رویہ جابرانہ ہے۔وکلا اداروں کی عزت و توقیر کرتے ہیں لیکن پولیس کے نزدیک کسی کی کوئی عزت نہیں ہے۔موجودہ دور میں وکلا اور میڈیا کا اہم کردار ہے۔وکلا اگر اتحاد کا مظاہرہ کریں تو کسی کی جرات نہیں کہ وکلا کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھے کچھ نام نہاد وکلا لیڈروں نے آر پی او کے پاس جاکر وکیلوں کے خون کو بیچنے کی کوشش کی جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔آر پی او آفس میں ڈی پی او وہاڑی طارق عزیز نے بتایاکہ تشدد کے مرتکب پولیس ملازمین کے معطلی کے آرڈر آچکے ہیں لیکن ہم درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کررہے ہیں آر پی او ملتان نے بھی ابتدائی طور پر منصف کا کردار ادا نہیں کیا جو قابل افسوس عمل ہے مذاکرات کے بعد آر پی او نے پولیس ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کئے اور ڈی پی او نے ایس ایچ او کو گرفتار کرنے کیلئے حلف دیا ہے کہ اسے اسی طرح گرفتار کیاجائیگا جس طرح ڈاکوں کو گرفتار کیاجاتاہے۔آر پی او اور ڈی پی او نے اپنے حلف کے مطابق ملزمان پولیس اہلکاروں کو گرفتار نہ کیا تو پھر وکلا بھی اپنے فیصلہ میں خود مختار ہونگے انہوں ڈسٹرکٹ بار کے وکلا سے اپیل کی کہ ڈسٹرکٹ بار کے وکلا بھی مذاکرات میں کئے گئے معاہدوں کی پابندی کریں کسی قسم کی خلاف ورزی نہ کریں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -