پنجاب کانسٹیبلری کرپشن کیس، گرفتار افراد کی ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم

پنجاب کانسٹیبلری کرپشن کیس، گرفتار افراد کی ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم

  

ملتان)خصوصی رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ ملتان کے دو ججز   مسٹر  (بقیہ نمبر52صفحہ6پر)

جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر  اور مسٹر جسٹس امجد رفیق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پنجاب کانسٹیبلری کرپشن کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی مبینہ کرپشن کرکے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے مقدمہ میں گرفتار سابق اکانٹنٹ پی سی 3  سجاد اور او ایس آئی برانچ کے ہیڈ کنسٹیبل محمد رمضان شہزادکی ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کرتے ہوئے ضمانتیں کنفرم کر دی ہیں۔اس کیس میں تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محسن ہارون ان پرسن پیش ہوئے۔اس مقدمہ میں ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان  سمیت 81 ملزمان نامزد ہیں۔ نیب ملتان کے ریفرنس کے مطابق پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ٹیکا لگانے والوں میں سینئر آڈیٹر مدثر دریشک، ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان، اکاونٹس آفیسر بھکر قمر محمد خان مگسی،سابق ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر ملتان باسط مقبول ہاشمی،ڈیرہ غازی خان کے عارضی اکاونٹس آفیسر احمد بخش جسکانی سمیت دیگر شامل ہیں۔ملزمان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے افسران کے جعلی دستخط کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ پولیس افسران نے اکانٹ افسروں اور اہلکاروں سے ملی بھگت کی، ملزمان نے  تنخواہیں اور جی پی فنڈ نکلوا کر ہڑپ کر لیا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مقدمہ درج کیا اور ملزمان سے 63 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کی- مقدمہ اینٹی کرپشن سے نیب کو منتقل ہوا تھا نیب کی جانب سے پنجاب کانسٹیبلری کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام لگا کر ریفرنس تیار کیا گیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -