افطار ڈنرز،میلسی میں کھچی،منیس گروپ آمنے سامنے

افطار ڈنرز،میلسی میں کھچی،منیس گروپ آمنے سامنے

  

میلسی(نامہ نگار)سابق ایم این اے محمد اورنگ زیب خان کھچی اور الحاج سعید احمد خان منیس متحرک ہوگئے۔ میلسی میں افطارڈنرز کے ذریعے سیاسی سر گر میاں عروج پر پہنچ گئی۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے الحاج سعید احمد خان منیس نے میلسی کے بعد موضع گلہاڑی میں کارنر میٹنگ سے خطاب کیا جہاں میاں محمدیوسف نے خطاب کرتے ہوئے (بقیہ نمبر36صفحہ7پر)

کہا کہ ن لیگ ہی ملک کے مسائل حل کر سکتی ہے اور سعید احمد خان منیس پی ہی 236 میں جس امیدوار کو نامزد کریں گے اس کا بھر پور ساتھ دیا جائے گا۔منقسم ارائیں برادری کھچی گروپ اور منیس گروپ میں بیک وقت موجود ہے ارائیں برادری میں موروثی سیاست پٹھان گروپ کی طرح ختم ہو رہی ہے کیو نکہ میاں محفوظ احمد ارائیں مرحوم کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے میاں زاہد نواز ارائیں مرحوم ا یم پی اے بنے اور پھر میاں ماجد نواز ارائیں ایم پی اے بنے جو مو روثی سیاست  کے پلیٹ فارم پرارائیں برادری کو اس وقت بھی مجتمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اور نگ زیب خان کھچی۔الحاج سعید احمد منیس کی طرح  میلسی کے قومی حلقے سے آزاد امیدوار کا الیکشن 2018 میں لڑنے کے بعد دوبارہ کارنر میٹنگز اسی حیثیت سے کر رہیہیں۔لیکن منیس گروپ اور کھچی گروپ میں ان کے قریبی سپورٹرز کافی تعداد میں جانے کی وجہ سے پہلے سے ارائیں گروپ سیاسی طور پر مضبوط نہیں رہا دو اہم شخصیات میاں عاصم اور اللہ ڈتہ خالد گروپس کھچی گروپ کے ساتھ جبکہ اب میا ں یوسف گروپ آف گلہاڑی سعید احمد خان منیس کے ساتھ شامل ہو چکا ہے اسی طرح پٹھان گروپ کے اہم ووٹ بنک کے حامل سابق چیرمین بلدیہ میلسی توفیق احمد خان یوسفزء  کے صاحبزادے تو صیف احمد خان انہیں چھوڑ کر منیس گروپ میں ہیں مسلم لیگ ن حلقہ 236 کے صدر ہیں۔اگر چہ 2018 میں ٹوچی خان کے دوسرے کزن اظہر احمد خان بھی مسلم لیگ ن میں رہتے ہوئے حلقہ 236 میں ٹکٹ ہولڈر بھی تھے مگر معقول ووٹوں سے ہارنے کے بعد مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر مسلم لیگ ق میں ہیں اور وہ این اے 165 پر چوتھے امیدوار ہیں ماسوائے کھچی گروپ کے جو پی ٹی آئی میِں شامل ہے موروثی گروپ نے گروپ لیڈر کو کمزور کیا ہے۔چنانچہ 2018 میں بیک وقت میلسی کی سیاسی تاریخ میں دو بھائی این اے 165 سے محمد اورنگ زیب خان کھچی اور پی پی 236 میں جہاں زیب خان کھچی کامیاب ہو ئے اور ان دنوں افطار ڈنر ز میں اگلے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔حالیہ افطار ڈنر میں انہوں نے تنظیم سازی کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے زبیر خان جوئیہ کو نائب صدر ترجمان کا نوٹیفیکیشن  جاری کیا کیونکہ اورنگ زیب خان کھچی پی ٹی آئی کے ضلعی صدر ہیں۔ان کے مدمقابل صرف پی پی 236 میں اب تک انتخابات میں عمران خان کھچی آف ڈھوڈہ نے شرکت کی جماعت الدعوہ کی ٹکٹ پر یا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کے بعد اب وہ پیپلز پارٹی میں ہیں مگر دونوں بار جیت ان کی بجائے جہاں زیب خان کھچی کے قرعہ فال میِں نکلی جنہیں پٹھان گروپ کے رہنما طاہر خان یوسفزئی نے ارائیں گروپ کے اکابرین کی طرح ہر بار  فتح دلائی پٹھان گروپ پی پی 236 پر عبداللہ خان یوسفزئی کو  میدان میں لا چکا ہے جو سابق ایم این اے ارشاد احمد خان یوسفزئی کے پوتے ہیں مگر ٹوچی خان کو اب یہ فیصلہ کر نا ہے کہ وہ اہنے حلیف سابق ایم پی اے سردا ر خان کھچی کے بھتیجے عمران خان کھچی یا بدستور اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلاتے اور خود این اے 165 پر امیدوار بنتے ہیں سیاسی مبصرین کا۔استدلال  یہی ہے کہ اصل مقابلہ این اے 165 پر الحاج سعید احمد خان منیس اور پی ٹی آئی کے محمد اورنگ زیب خان کھچی کے مابین ہو گا جبکہ 236 میں جہاں زیب خان کھچی کے مقابلے میں تاحال کوئی مضبوط امیدوار نہیں آیا جو یہاں سے تیسری بار  جیتنے/ہیٹرک کرنے  کا اعزازرکھتے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -