محکمہ ایکسائز ملتان ڈویژن، 4لاکھ سے زائد گاڑیوں کا ریکارڈ غائب 

محکمہ ایکسائز ملتان ڈویژن، 4لاکھ سے زائد گاڑیوں کا ریکارڈ غائب 

  

ملتان(نیوزرپورٹر)محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ملتان آفس میں ایجنٹ مافیا کی بھرمار ہوگئی۔موٹر برانچ میں نیو رجسٹریشن اور ٹرانسفر ملکیت سمیت شارٹ ٹوکن ٹیکس و دیگر امور پر ایجنٹ مافیا کی اجارہ داری سے سائلین کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے ایکسائز آفس کی پارکنگ میں درجن بھر ایجنٹ دور دراز سے آنیوالے سائلین کو متعلقہ سٹاف تک پہنچنے سے پہلے ہی سبز باغ دکھا کر اچک لیتے ہیں جبکہ متعدد واقعات میں ایجنٹ مافیا رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی فیسیں وصول کرکے رفو چکر ہوچکے ہیں دوسری طرف سائلین کے مطابق ایکسائز عملہ کے (بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

بلاجواز اعتراضات بھی سائلین کو ایجنٹ مافیا سے رابطہ کرنے پر مجبور کردیتے ہیں جو مقررہ فیسوں سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں کھاتے بھی ہیں اور لگاتے بھی ہیں اسی طرح بائیومیٹرک نظام مسلسل سست روی کا شکار ہے نادرا کی ٹیمیں متعدد بار کوششوں کے باوجود اپنے نظام میں تیزی اور فعال کرنے میں بدستور ناکام نظر آرہی ہیں جس کے باعث موٹر برانچ سے متعلقہ رجسٹریشن و ٹرانسفر ملکیت سمیت دیگر امور بھی تعطل کی نذر ہوکر رہ گئے ہیں اور سائلین ایکسائز آفس کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر ملکیت بائیومیٹرک تصدیق کے اعلان کو چار ماہ گزرنے کے باوجود بائیومیٹرک نظام کو معمول پر لانے کامیابی تاحال دور تک نظر نہیں آرہی، کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے مطابق بائیومیٹرک نظام کا مکمل طور پر نفاذ قطعی ناممکن ہے کیونکہ اس وقت صوبہ میں لاکھوں گاڑیاں ایسی موجود ہیں جن کا محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ میں سرے سے اندراج ہی نہیں ہے جو مشکل ترین مسئلہ ہے محکمہ ایکسائز نے 2007 کے اوائل سے کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن شروع کی تھی جس کا ریکارڈ موجود ہیاسی طرح بائیومیٹرک کا آغاز 2007 سے 2022 تک رجسٹرڈ ہونیوالی گاڑیوں کا تو ممکن ہے لیکن اس سے قبل رجسٹرڈ ہونیوالی گاڑیاں محکمہ کے لیئے درد سر کے سوا کچھ نہیں ذرائع کے مطابق صرف ملتان ڈویژن میں 4 لاکھ سے زائد گاڑیوں کا محکمہ ایکسائز کے پاس ریکارڈ ہی نہیں جبکہ ہزاروں گاڑیاں متعدد دفعہ فروخت ہوچکی ہیں ان کی بائیومیٹرک تصدیق کیسے ممکن ہوگی انہوں نے محکمہ ایکسائز کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق کو چند ماہ کے لیئے موخر کیا جائے اور ایک جامع پالیسی تشکیل دی جائے جو محکمہ و سائلین دونوں کے لیئے باعث اطمینان ہو۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -