ملتان،ہزاروں کیس دائر،ججز کمی سے مسائل میں اضافہ،سائل پریشان

ملتان،ہزاروں کیس دائر،ججز کمی سے مسائل میں اضافہ،سائل پریشان

  

ملتان) خصو صی  ر پورٹر)پولیس کی طرف سے عدالتوں میں بروقت چالان پیش نہ کرنے،روایتی طریقہ تفتیش، عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے اور ججز کی(بقیہ نمبر43صفحہ6پر)

 کمی کے باعث ملتان کی سیشن و مجسٹریل کورٹس میں زیر التوا فوجداری مقدمات کی تعداد ساڑھے17 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ مقدمات کے بروقت فیصلے نہ ہونے کے باعث نئے مقدمات نے مجسٹریل اور سیشن عدالتوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ قتل، زیادتی، منشیات، ڈکیتی، اغوا، اقدام قتل، تشدد، ہراسمنٹ، اندراج مقدمہ، ضمانت منسوخی، حبس بے جا سمیت دیگر چھوٹے اور سنگین نوعیت کے پولیس اور سپیشل تھانوں کے 17 ہزار 347 مقدمات 15 فروری 2022 تک زیر سماعت رہے۔ اس ضمن میں رپورٹ کے مطابق ضلعی عدالتوں میں 793 ضمانت قبل از اور بعد از گرفتاری کی درخواستیں زیر سماعت ہیں، ایسے کیسز جن میں سات سال تک کی قید کی سزا ہوسکتی ہے انکی تعداد 11 ہزار 706 ہے جبکہ سات سال سے زائد، عمر قید اور موت کی سزا کے متوقع کیسز کی تعداد 589 اور منشیات کے کیسز کی تعداد 466 ہے۔وکلا کا کہنا ہے کہ قومی عدالتی پالیسی پر عملدرآمد ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور مقرر کردہ وقت میں فیصلے نہ ہونے سے لاکھوں سائلین خوار ہورہے ہیں۔ وکلا نے مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے ججز کی کمی کو پورا کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -