القادر یونیورسٹی کے پہلے ٹرسٹیز میں زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل پھر عمران خان نے انہیں ہٹا کر فرح خان اور کس شخصیت کو بنایا ؟ بڑا دعویٰ 

القادر یونیورسٹی کے پہلے ٹرسٹیز میں زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل پھر عمران ...
القادر یونیورسٹی کے پہلے ٹرسٹیز میں زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل پھر عمران خان نے انہیں ہٹا کر فرح خان اور کس شخصیت کو بنایا ؟ بڑا دعویٰ 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )القادریونیورسٹی کے قیام اور پھر اس کی سرپرستی کے معاملے میں عمران خان پر وزیراعظم رہتے ہوئے معاملات دیکھنے کے باعث سینئر صحافی ندیم ملک نے مفادات میں تصادم کا اعتراض اٹھا دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ندیم ملک نے" سماءنیوز "پر پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر یونیورسٹی کی زمین پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے حاصل کی گئی ، زمین کی ملکیت فرح خان کے نام پر ہے ،فرح خان پر کہانیوں کی ایک لمبی داستان ہے ۔

پروگرام میں صحافی قاسم عباسی نے خبرکی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ القادر یونیورسٹی کے چیئرمین عمران خان تھے ،ٹرسٹیز میں زلفی بخاری ، اظہر الدین بابراعوان  اور بشریٰ بی بی شامل تھے جبکہ عمران خان چیئرمین ہونے کے علاوہ ٹرسٹی بھی تھے ، زمین کی مالیت 2 ارب 44 کروڑ روپے بتائی گئی ہے ، ملک ریاض نے جہلم میں 460 کینال زمین دی تھی ، اس کی تعمیر سمیت دیگر ذمہ داریوں کا تعین معاہدے میں ہی کر لیا گیا تھا ، یعنی یہ سب کام بھی ڈونر مطلب ملک ریاض ہی کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ڈونیشن بھی لے رہے تھے ، یورنیورسٹی میں 37 طلباءتھے ، انہیں1 ارب 8 کروڑ روپے ڈونیشن حاصل ہوئی ، ملک ریاض نے جگہ بھی دی اور عمارت بھی تعمیر کر کے دی۔دسمبر 2019 میں بابراعوان نے سب رجسٹرار آفس اسلام آباد میں ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر کروائی، اس کے 4سے 5 مہینے کے بعد عمران خان نے چیئرمین ہونے کے ناطے زلفی بخاری اور بابراعوان کو ٹرسٹیز سے ہٹا دیا اور 8ے 9 ماہ کے بعد ڈاکٹر عارف بٹ جوکہ لمز یونیورسٹی  کےپروفیسر ہیں انہیں اور فرح خان کو ٹرسٹی بنا دیا ۔عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے ٹرسٹیز میں تبدیلی کی ۔ سینئر صحافی ندیم ملک نے اس سارے معاملے کو مفادات میں تصادم قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ ڈونیشن کی اکنالجمنٹ کی دستاویزات پر بشریٰ بی بی کے دستخط ہیں جو کہ ملک ریاض اور ان کے درمیان ہوئی ۔

مزید :

قومی -