"جس آرمی چیف  کی تعیناتی شہباز شریف کریں گےکیا اس کو پی ٹی آئی قبول کرے گی ؟" مظہر عباس کا فواد چوہدری سےسوال 

"جس آرمی چیف  کی تعیناتی شہباز شریف کریں گےکیا اس کو پی ٹی آئی قبول کرے گی ؟" ...
سورس: File

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نےپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما فواد چوہدری سے سوال کیا ہے کہ جس آرمی چیف  کی تعیناتی شہباز شریف کریں گےکیا اس کو پی ٹی آئی قبول کرے گی کہ نہیں؟

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  پہلی چیز فواد چوہدری یہ بتائیں کہ اگر شہباز شریف  نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کر دی تو یہ کیا کریں گے؟کیا جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو یہ اس تعیناتی کو ختم کر دیں گے؟یہ تو بتائیں 12اکتوبر1999 کو نواز شریف کے پاس دو تہائی اکثریت تھی انہوں نے  جس آرمی چیف کو تعینات کیا اس کے خلاف جو بغاوت ہوئی ،اس کو فواد چوہدری کیا کہتے ہیں؟کیوں کہ وہ تو پرویز مشرف کے حامیوں میں سے رہے ہیں۔کیا وہ منتخب وزیراعظم کا فیصلہ نہیں تھا؟ کیا وہ آج یہ سمجھتے ہیں کہ 12اکتوبر1999 والانواز شریف کا فیصلہ صحیح تھا؟کیا پیپلز پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیے کے بعد جو تعیناتی بے نظیر بھٹو نے کی تھی کیا وہ غلط تھی؟

مظہر عباس کا کہنا تھا  کہ اس وقت جو صورتحال ہے آپ اس حکومت کو مانیں یا نہ مانیں یہ آپ کا حق ہے۔لیکن شہباز شریف جس طریقہ کار کے ذریعے وزیراعظم بنے ہیں  اس سے آپ دور ائے رکھ سکتے ہیں لیکن کیا اسی ایوان نے  عمران خان کو وزیراعظم منتخب نہیں کیا تھا؟کیا اسی ایوان نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی؟جس کے بعد شہباز شریف آ گئے ۔اگر انتخابات ہو جاتے ہیں اور عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کریں گے اور اگر انتخابات نہیں ہوں گے تو شہباز شریف نئے آرمی چیف کی تعیناتی کریں گے۔لیکن فواد چوہدری مجھے یہ بتا دیں کہ جس کی تعیناتی شہباز شریف کریں گے اس کو کیاپی ٹی آئی قبول کرے گی کہ نہیں؟

خیال رہے کہ اپنے ایک ٹویٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا "آئین منتخب وزیر اعظم کو آرمی چیف اور دیگر تعیناتیوں کا حق دیتاہے،موجودہ حکومت کو ایسی مستقل تعیناتیوں کا کوئی حق حاصل نہیں،  امپورٹڈحکومت اگر ایسی تعیناتیوں کے خواب دیکھے گی تو ملک اور ادارے انار کی کا شکار ہو جائیں گے،  اس حکومت کی حیثیت صرف عارضی ہے، مستقل تعیناتیاں منتخب حکومت کرے گی۔" 

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہوجائیں گے۔انہیں ایک بار پہلے ہی مدت ملازمت میں توسیع دی جاچکی ہے تاہم پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ وہ مزید توسیع کے خواہاں نہیں ہیں۔ 

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -