افغانستان میں لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھولے جائیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل 

  افغانستان میں لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھولے جائیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل 

  

کابل (آئی این پی)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان میں لڑکیوں کے سکول بند ہونے کے سخت نتائج کا انتباہ دیا ہے۔افغان خبر رساں ایجنسی آوا کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر لڑکیوں کے ہائی سکولوں کو کھولا جائے تا کہ خواتین تعلیم کے زیور سے محروم نہ رہ سکیں۔اس سے قبل افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کی نمائندہ نے اپنے ٹوئٹ میں اس ملک میں لڑکیوں کے سکول بند ہونے کے سخت نتائج کا انتباہ دیا تھا۔ افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کی نمائندہ ڈیبورہ لائنز نے خبردار کیا کہ اگر طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے سکول بند رکھے، تو طالبان حکومت کے مسائل و مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔طے پایا تھا کہ افغانستان میں نیا تعلیمی سال شروع ہونے پر لڑکیوں کے سکول کھول دیئے جائیں گے، مگر افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت تعلیم نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں جب بھی شریعت اور اس ملک کی ثقافت کے مطابق لڑکیوں کے سکول کا یونیفارم اور دوسرے مسائل حل ہو جائیں گے تب طالبان رہنما کی ہدایات پر سکول دوبارہ کھل جائیں گے۔افغانستان میں لڑکیوں کے سکول اور کالج بند رکھنے کا فیصلہ ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ اس سے قبل طالبان نے ان سکولوں اور کالجوں کے کھلنے کا اعلان کیا تھا۔افغانستان میں 15 اگست 2021 میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے وقت سے، اس ملک میں لڑکیوں کے سکول اور کالج بند کر دیئے گئے ہیں جس کی وجہ تعلیمی نظام میں اصلاحات بتائی گئی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -