ڈینگی پھر آ رہا ہے

ڈینگی پھر آ رہا ہے

  

ڈینگی کا عفریت ہمارے وطن عزیز میں اس طریقے سے در آیا ہے کہ اس نے ہمارے معاشرے کے ہر طبقے، ہماری حکومتی مشینری کے ہر پُرزے اور انتظامی شعبے کے ہر ڈھانچے کو بُری طرح سے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف جہاں ڈینگی نے ہمارے لئے نقصانات میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے، وہاں انتہائی حیرت کا مقام ہے کہ ڈینگی نے ہماری کمیونٹی اور کلچر پر مثبت اور انقلابی اثرات مرتب کئے ہیں، جن کی توقع تک نہیں تھی۔یقین جانیں آج سے فقط ایک سال پہلے تک عام پاکستانی تو درکنار، میڈیکل پریکٹشنر اور دیگر ڈاکٹروں کی اکثریت اپنے کورسز اور نصابی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود Platelets کا علم فراموش کر چکے تھے۔ دیکھا یہ گیا تھا کہ کسی بھی پرائیویٹ کلینک پر ڈاکٹر کسی طور پر کسی طرح کا لیب ٹیسٹ بالعموم اور C/BC اور پلیٹ لیٹس وغیرہ کا ٹیسٹ بالخصوص بالکلAdvise نہیں کیا کرتے تھے، حالانکہ یاد رکھیں بیماریوں کا وجود تب بھی تھا اور کئی کئی وبائی امراض کا حملہ ہماری کمیونٹی پر ہوتا رہتا تھا۔مگر یہ تو باقاعدہ حقیقت ہے کہ اس وقت کا میڈیا اتنا فعال نہیں تھا، جتنا اب ہے۔ میڈیا نے، چاہے وہ پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا ہو، اس نے کئی سالوں سے پاکستانی معاشرے میں ایک ایسی تبدیلی پیدا کی ہے، جس کے تحت لوگوں میں ہر طرح کی جانکاری کا یعنی Information حاصل کرنے کا جذبہ بدرجہ اتم پیدا ہو چکا ہے۔

علم، شعور و آگہی کی متلاشی اور پیاسی اس قوم کو معلومات جاننے کی شدید خواہش ہے تو اس کی لگن کے عین مطابق اس قوم کی علم کی پیاس بجھانے اور اس کی ذہنی تسکین کو پورا کرنے کا مکمل سامان اس الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے کر رکھا ہے۔ ہر لمحہ، ہر چینل اور ہر روز ہر اخبار میں حالات حاضرہ اور اچانک نا گہانی مسائل پر پوری بحث ہوتی ہے۔ واقعات کی بھرپور کوریج، ہر طرح کی شخصیت کا Version اور مو¿قف ہر وقت قوم کے آگے رکھا جا رہا ہوتا ہے۔ معلومات اور جانکاری کے اس سیلاب میں ہر طرح کے ناظرین اور قارئین سیراب ہو رہے ہوتے ہیں۔ اسی میڈیا کا یہ کمال ہے کہ ڈینگی تو پہلے بھی پاکستان میں برسوں سے آتا رہا ہے، مگر اس بار ڈینگی کے اژدھے نے جونہی سر اٹھایا، میڈیا نے اس پر بھرپور وار کیا۔ اس نے قوم کے ہر فرد کو اس عفریت سے نمٹنے کا طریقہ بتایا۔ تمام میڈیکل پروفیشن کے ذمہ داروں کو ایمانداری اور فرضی شناسی کے ساتھ اس مرض کا علاج معالجہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ انتظامیہ کے ہر حصے کو اپنا اپنا موثر ترین کردار نبھانے پر تیار کر لیا۔ وفاقی ہو یا صوبائی، حکومت کے ہر صاحب اقتدار کو، اس کا اپنا روایتی آرام سکون چھین کر اس محاذ پر لاکھڑا کر دیا۔ پہلے بھی اس طرح کے کئی وبائی امراض پھوٹ پڑتے تھے، مگر کاغذی کارروائیاں کر کے مریضوں کے صرف قبرستان آباد کئے جاتے رہے، مگر اس بار معاملہ اُلٹ ہوگیا۔

ہمارے اس بدقسمت وطن عزیز پاکستان کا شروع سے ہی یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں پر نہ تو کوئی ادارہ، نہ کوئی سسٹم اور نہ ہی کوئی محکمہ صحیح معنوں میں پنپ سکا۔ ہر بار جمہوریت پر شب خون مارنے کی وجہ سے، کرپشن کی سرکاری سرپرستی ہونے کی وجہ سے، بیوروکریسی کی خود غرضانہ چالوں کی وجہ سے، اس بدقسمت قوم میں جہالت، گمراہی اور بے حسی کی وجہ سے ، حکومت، سیاست، فوج، افسر شاہی، عدلیہ، صحافت میں موجود خفیہ طور پر گھسی ہوئیں، بلکہ جناب! انتہائی دلیرانہ انداز سے کھلم کھلا طور پر موجود کالی بھیڑوں، ہر موقع پرست شیطانوں اور کرپشن کے دلدادہ گِدھوں کی وجہ سے پاکستان کا ہر محکمہ، ہر طبقہ اور ہر شعبہ بین الاقوامی معیار تو بڑی دور کی بات، پاکستان کے اس ٹوٹے پھوٹے معاشرے کے بنیادی فریم ورک سے بھی معمولی انصاف نہیں کر سکا۔ میڈیکل کیا، انجینئرنگ کیا، تعلیم و تدریس کیا، انصاف کیا ہر شعبے میں تحقیق و اشاعت کا معاملہ سرے سے ناپید ہے۔ افسوس صد افسوس کہ یہ صرف پاکستان میں ہی ہے۔ ہم سے کچھ نیچے معاشی معیار کے ممالک مثلاً بنگلہ دیشی، سری لنکا وغیرہ میں ہر شعبہ میں تحقیق و تعلیم لازم ہے۔پاکستان میں جہاں ہر محکمے اور شعبے میں کرپشن ہے، وہاں سچ مانئے ہمارے معاشی رویوں میں بھی کرپشن ہے۔ سرے سے اجتماعیت کا فقدان ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ڈینگی کا مرض اگر اس طرح وبائی اور مہلک حیثیت اختیار کر گیا تو یاد رکھیں! یہ ہمارے بدقسمت معاشرے میں رہنے والے شہریوں/ صارفین کی خود غرضی اور اجتماعی سوچ کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اپنے گھر کو صاف رکھیں، گلی میں بھلے گندگی کے ڈھیر لگ جائیں۔ ہمارے گھر کے کمرے اور فرش دھلیں ہونے چاہئیں، باہر کی سڑک جائے بھاڑ میں اور یہ جو گھر کے باہر بڑے بڑے پانی کے جوہڑ بن چکے ہیں، کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ یہ تو ہمارے اردگرد کا ایک حسن ہے۔ اس رُکے ہوئے گندے پانی کے بغیر بھلا ہمیں اپنے دیس، اپنے وطن کی ثقافتی تصویر مکمل نظر آئے گی۔ گویا ہمیں زندگی کا مزہ ہی نہیں آئے گا۔

مزے کی بات کہ جو کردار ڈینگی کو پھیلانے کے سب سے زیادہ ذمہ دار مجرم ہیں، بالعموم سب لوگوں اور بالخصوص حکومت کی نظر میں ابھی تک اوجھل ہیں۔ مجرم صاف سامنے موجود ہے، مگر نہ تو اس کا کوئی تذکرہ ہے، نہ ہی اس طرف دھیان، یاد رکھیں! ڈینگی اگر پھیلا ہے اور مستقبل قریب میں اگر خدانخواستہ کوئی دیگر وبائی مرض اس طرح ہمارے معاشرے میں پھوٹ پڑتا ہے تو اس کا ایک ہی ذمہ دار ہوگا اور وہ ہے واسا اور شعبہ پبلک ہیلتھ۔ ڈینگی کے مرض سے جتنی اموات ہوئی ہیں اور جتنے افراد اس مرض کا شکار ہوئے ہیں۔ چاہئے تو یہ کہ واسا اور شعبہ پبلک ہیلتھ کے بڑے عہدیداروں کو، جو کوئی بھی ہیں، سر عام پھانسی دے دی جاتی، مگر افسوس صد افسوس کہ انصاف لینے کے لئے عوام کا کوئی نمائندہ گروپ نہ تو ان کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کر رہا ہے اور نہ ہی حکومت ان محکموں کی باز پُرس کر رہی ہے۔

کیا گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونا واسا اور شعبہ پبلک ہیلتھ کی ناکامی اور انتہائی مجرمانہ غفلت نہیں تھی۔ اتنا زیادہ بل بجلی کا یا سوئی گیس کا نہیں آتا، جتنا واسا کا ایک ماہ کا بل جو صارف (جو چاہے واسا کے پانی کے ایک قطرے کو ترسیں) کو ادا کرنے کے لئے تھما دیا جاتا ہے۔ کیا دیتا ہے یہ واسا۔ صرف گندگی، گندے پانی کے جوہڑ، سرکاری نلکوں میں سے آنے والا گندا، غلیظ اور کیڑوں سے اَٹا ہوا پانی، وہ ناقص اور بوسیدہ سیوریج سسٹم جو ڈینگی کے علاوہ بھی کئی اور قسم کی اُچھوت بیماریوں ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس وغیرہ ہمارے معصوم شہریوں کی رگوں میں انڈیلتا رہتا ہے۔پہلے ہماری عدلیہ حکومت وقت کے طابع ہوا کرتی تھی اور ہر فیصلے میں حکومتی عہدیداروں سے ہدایات لیا کرتی تھی، مگر اب تو عدلیہ الحمدللہ! آزاد ہو چکی ہے اور اپنی Purification کے ارتقائی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود افسوس صد افسوس! حالات سے غافل اور خواب خرگوش کے مزے لینے والا ہمارا شہری انصاف کا دروازے کھٹکھٹانے کے لئے اس طرف نہیں آسکا۔ عدلیہ کے آزاد ہو جانے کے باوجود اس بے چارے شہری کو علم نہیں کہ واسا یا محکمہ صحت کے بڑوں کے خلاف ہر وقت مستعد عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں فوری انصاف ملنے والا ہے، مگر افسوس ہمارے ملک کے شہریوں میں دور دور تک ایسا کئی کلچر پیدا نہیں ہوا۔ شہریوں میں ایسا شعور بیدار کرنے کا کام حکومت کا تھا یا ایسی فلاحی تنظیموں کا تھا ، مگر اس Activism کی راہ ہموار نہیں ہوئی اور نہ ہی سماجی، معاشی اور اجتماعی رویوں میں تبدیلی یا بہتری آئی ہے اور انتہائی شرم کی بات ہے کہ بے شمار این جی اوز کے ہونے کے باوجود پاکستان کے مسائل، بلکہ خطرناک مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو مسائلستان کے نام سے پکارنا شروع کر دینا چاہئے۔ خدا کے لئے صحت کے موضوع پر کام کرنے والی این جی اوز کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے ایجنڈے پر پہلے سے زیادہ تیزی سے کام شروع کر دیں اور لوگوں میں صحت عامہ کے مسائل سے نجات کے لئے تعلیم و تربیت دینی شروع کر دیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام اصل میں حکومت کے کرنے کا تھا۔    ٭

مزید :

کالم -