جو ذرہ جس جگہ ہے....!

جو ذرہ جس جگہ ہے....!

  

 امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ نے پاکستان کے نوجوانوں کی صورت حال پر تفصیل سے لکھا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد بے روزگاری کی وجہ سے کم اُجرت پر ایسے کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جو مناسب نہیںہیں۔ بعض اوقات تو وہ معاوضے کے وعدے پر کام شروع کر دیتے ہیں، مگر انہیں کئی کئی ماہ تک ادائیگی نہیں ہوتی، اِس سلسلے میں کئی مثالیں بھی دی گئی ہیں، جن میں پچھلے سال پاکستان ریلوے کی ہڑتال ایک بڑا واقعہ تھی، جس میں ریل گاڑیاں بند کر دی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ کئی اور اداروں کے بارے میں بھی لکھا ہے، جہاں کئی کئی ماہ تک تنخواہیں نہیں ملتیں۔ کئی بار تو سپریم کورٹ کو حکم دینا پڑتا ہے۔ پاکستان کی معاشی حالت درست نہیں،روپے کی قدر گر رہی ہے، مہنگائی بڑھتی جاتی ہے، یہ صورت حال امریکی اخبار کو اچھی نہیں لگی۔

ہم امریکہ کی ریاست نیو یارک میں رہتے ہیں اور یہاں کے حالات سے پوری طرح واقف ہیں۔ امریکہ کے بڑے بڑے ادارے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ حکومت خود اپنے ملازمین کو فارغ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی بھی بڑھ گئی ہے۔ یہاں نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کا شوق نہیں اور جنہیں ہے، وہ بھی گزر بسر کے لئے ایسے کام کرتے ہیںجو پاکستان میں ابھی تک پسند نہیں کئے جاتے۔ امریکہ میں اور باہر سے آنے والے ڈاکٹر، انجینئر اور ماہرین اکثر ملازمت کا آغاز بہت نچلے درجے سے کرتے ہیں، جسے بُرا نہیں سمجھا جاتا۔ نہ جانے امریکی اخبار کو پاکستان کے نوجوانوں کے کم درجے کے روزگار اور کام پر کیوں اعتراض ہے؟ اُن کا ملک ہے، اُن کے لوگ ہیں، جو چاہے کریں۔ اِس سے تو بہتر ہے کہ وہ امریکہ ، برطانیہ، یورپ میں گیس سٹیشن یا کسی سٹور میں مزدوری کریں۔

ایک خبر یہ ہے کہ سندھ کے علاقے خیرپور کے میٹرک کے ایک طالب علم شاداب رسول بڑیولو نے چائے کی پتی سے صنعتی فضلے کو صاف کرنے کا ایک طریقہ ایجاد کیا ہے۔ نیو یارک میں23جولائی کو انٹرنیشنل مقابلہ منعقد ہوا، جس میں51ملکوں سے 75طالب علموں نے شرکت کی اور تحقیقی مقالے بھیجے۔ ان میں شاداب رسول بڑیولو نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس طالب علم کو اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک نے اڑھائی لاکھ ڈالر کی سکالر شپ دینے کا اعلان کیا۔ اس15سالہ میٹرک کے طالب علم نے صنعتی فضلے کو صاف کرنے کا جو طریقہ ایجاد کیا ہے، وہ چائے کی پتی کے ذریعے ہے، جس پر عالمی سائنس دان حیران رہ گئے ہیں ۔ اس فارمولے سے صنعتی فضلے کا پانی دوبارہ قابل استعمال ہو جاتا ہے۔ شاداب رسول نے یہ فارمولا تین ہفتے میں ایجاد کیا ہے، جس سے دُنیا میں ایک انقلاب آ جائے گا۔ پاکستان کے نوجوان کوئی نہ کوئی دریافت، تحقیق یا ایجاد کرتے رہتے ہیں۔

ارفع کریم ایک چھوٹی سی بچی تھی، جس نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں پاکستان کا نام روشن کیا تھا۔ ابھی کتنے ہی نوجوان ہیں، جو ایسے کاموں میں مصروف ہیں جو انسانی فلاح و بہبود کے لئے کارآمد ہوں گے۔ پاکستان کے رہنما اِس بات سے واقف ہیںکہ نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل ہیں، اسی لئے وہ انہیں ہر قسم کی سہولت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ابھی وہ کم تنخواہ پر کام کر رہے ہیں تو کل اُنہیں ہر قسم کی مراعات مل جائیں گی:

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ غالباً یہ سمجھتا ہے کہ امریکی امداد کے باوجود نوجوانوں کے حالات درست نہیں ہیں، حالانکہ پاکستان اپنے ہی وسائل کی بنیاد پر کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس میں کامیاب بھی ہو گا۔ پاکستان میں جو حالات بھی ہوں، لوگ کسی بھی قسم کی زندگی گزار رہے ہوں، مگر یہ اطمینان ہے کہ وہاں جمہوریت ہے، عوام کی حکومت قائم ہے اور عوام ہی اپنی پسند نا پسند سے زندگی گزارتے ہیں۔

پاکستان میں امریکہ کی بڑی قدرو منزلت ہے اور کوئی بڑے سے بڑا رہنما یہ بات نہیں کرتا کہ امریکہ میں حالات درست نہیں، مالی بحران ہے، لوگ وال سٹریٹ کے نزدیکی پارک میں ایک عرصے سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ، نہ اس پر کوئی تبصرہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں بڑی مقدار میں گھر قرض کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے بینکوں نے واپس لے لئے، وہاں تو ”سب اچھا ہے“ کی صدا لگتی ہے۔ امریکی اخبار”واشنگٹن پوسٹ“ کو کوئی یہ بتا دے کہ پاکستان میں جو نوجوان جو کام کر رہا ہے ، وہ خوش ہے، مطمئن ہے اور اپنے ہی ماحول میں رہنا چاہتا ہے۔ یوں بھی:

جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

مزید :

کالم -